’جو کھیل پوری قوم کو متحد کرتا تھا، اسے بھی تباہ کردیا‘، پاکستانی کرکٹ کے حالت زار پر شائقین مایوس

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لیڈز کے بعد لارڈز میں بھی پاکستان کی بیٹنگ لائن انگلش بولرز کے سامنے بری طرح ناکام رہی اور قومی ٹیم کے کھلاڑی مسلسل ناکامیوں کے حصار سے باہر نہ نکل سکے۔ قومی ٹیم کی ایک اور مایوس کن کارکردگی پر سابق کرکٹرز نے شدید تنقید کی جبکہ سوشل میڈیا صارفین بھی ٹیم کی کارکردگی پر برہم دکھائی دیے۔

شعیب جٹ نے لکھا کہ انگلینڈ کے خلاف جاری سیریز سے 7 کھلاڑیوں کو گھر بھیجنا پی سی بی کی طرف سے اس بات کا اعتراف ہے کہ اس کی سلیکشن کمیٹی نے غلط/نااہل کھلاڑیوں کا انتخاب کیا۔ پھر اس قصوروار سلیکشن کمیٹی کو کیوں نہیں فارغ کیا جارہا؟

نادر بلوچ لکھتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ اوپر سے ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں کہ کھلاڑیوں کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کون سا کرکٹ بورڈ ہوتا ہے جو سیریز کے دوران بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کر دے؟ یہ کریڈٹ بھی پاکستان کو جاتا ہے۔

سرجری کا جہاں سے آغاز ہونا چاہیے تھا وہاں سے تین سال سے نہیں ہوا۔ ایک کرکٹ ہی ایسی گیم تھی جس پر پوری قوم متحد ہوتی تھی اسے بھی تباہ کر دیا گیا ہے یہ بہت افسوسناک ہے۔

سلیم خالق نے سوال کیا کہ پاکستان ٹیم میں اتنی ساری تبدیلیوں سے کیا لگتا ہے کوئی فرق پڑے گا؟

عروج جاوید نے لکھا کہ پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں دورۂ انگلینڈ کے دوران، سیریز ختم ہونے سے پہلے ہی قومی ٹیم کا پورا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

صرف ایک یا دو ٹیسٹ میچز کے بعد کھلاڑیوں کی تبدیلی، کوچنگ اسٹاف میں ردوبدل اور اہم فیصلوں نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ عام طور پر اس نوعیت کے بڑے فیصلے کسی سیریز کے آغاز سے قبل کیے جاتے ہیں، لیکن اس بار سیریز کے دوران ہی ایک کے بعد ایک بڑی تبدیلی سامنے آ رہی ہے۔

پہلے ٹیسٹ کے بعد فیصلے، دوسرے کے بعد تبدیلیاں اور اب تیسرے ٹیسٹ سے قبل ایک نیا ہنگامہ، دورۂ انگلینڈ پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے غیر معمولی دوروں میں شمار ہونے لگا ہے، جہاں سیریز مکمل ہونے سے پہلے ہی قومی ٹیم کا نقشہ مسلسل بدلتا جا رہا ہے۔

شمائلہ بدر لکھتی ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ  کے خلاف عبرت ناک شکست پر کرکٹ شائقین ناراض اور پریشان ہیں کہ ہماری کرکٹ کا انجام بھی ہاکی جیسا تو نہیں ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ بورڈ میں ان لوگوں کو ہونا چاہیے جو کرکٹ کے بارے میں تجربہ رکھتے ہو۔ جب تک کرکٹ میں پرچی اور سفارش چلتی رہے گی کرکٹ کا بہتر ہونا بہت مشکل ہے نہ جانے کتنے اچھے کھلاڑی اس نظام کی بھینٹ چڑھ گئے۔

واضح رہے کہ انگلینڈ نے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 2-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کرتے ہوئے سیریز اپنے نام کرلی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp