لیڈز کے بعد لارڈز میں بھی پاکستان کی بیٹنگ لائن انگلش بولرز کے سامنے بری طرح ناکام رہی اور قومی ٹیم کے کھلاڑی مسلسل ناکامیوں کے حصار سے باہر نہ نکل سکے۔ قومی ٹیم کی ایک اور مایوس کن کارکردگی پر سابق کرکٹرز نے شدید تنقید کی جبکہ سوشل میڈیا صارفین بھی ٹیم کی کارکردگی پر برہم دکھائی دیے۔
شعیب جٹ نے لکھا کہ انگلینڈ کے خلاف جاری سیریز سے 7 کھلاڑیوں کو گھر بھیجنا پی سی بی کی طرف سے اس بات کا اعتراف ہے کہ اس کی سلیکشن کمیٹی نے غلط/نااہل کھلاڑیوں کا انتخاب کیا۔ پھر اس قصوروار سلیکشن کمیٹی کو کیوں نہیں فارغ کیا جارہا؟
انگلینڈ کے خلاف جاری سیریز سے 7 کھلاڑیوں کو گھر بھیجنا پی سی بی کی طرف سے اس بات کا اعتراف ہے کہ اس کی سلیکشن کمیٹی نے غلط/نااہل کھلاڑیوں کا انتخاب کیا۔
پھر اس قصوروار سلیکشن کمیٹی کو کیوں نہیں فارغ کیا جارہا؟ pic.twitter.com/u93f4IoFze— Shoaib Jatt (@Shoaib_Jatt) August 31, 2026
نادر بلوچ لکھتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ اوپر سے ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں کہ کھلاڑیوں کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کون سا کرکٹ بورڈ ہوتا ہے جو سیریز کے دوران بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کر دے؟ یہ کریڈٹ بھی پاکستان کو جاتا ہے۔
سرجری کا جہاں سے آغاز ہونا چاہیے تھا وہاں سے تین سال سے نہیں ہوا۔ ایک کرکٹ ہی ایسی گیم تھی جس پر پوری قوم متحد ہوتی تھی اسے بھی تباہ کر دیا گیا ہے یہ بہت افسوسناک ہے۔
سچ یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ اوپر سے ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں کہ کھلاڑیوں کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں کون سا کرکٹ بورڈ ہوتا ہے جو سیریز کے دوران بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کر دے؟ یہ کریڈٹ بھی پاکستان کو جاتا ہے۔
سرجری کا جہاں سے آغاز…— Nadir Baloch (@BalochNadir5) August 31, 2026
سلیم خالق نے سوال کیا کہ پاکستان ٹیم میں اتنی ساری تبدیلیوں سے کیا لگتا ہے کوئی فرق پڑے گا؟
پاکستان ٹیم میں اتنی ساری تبدیلیوں سے کیا لگتا ہے کوئی فرق پڑے گا؟
— Saleem Khaliq (@saleemkhaliq) September 1, 2026
عروج جاوید نے لکھا کہ پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں دورۂ انگلینڈ کے دوران، سیریز ختم ہونے سے پہلے ہی قومی ٹیم کا پورا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
صرف ایک یا دو ٹیسٹ میچز کے بعد کھلاڑیوں کی تبدیلی، کوچنگ اسٹاف میں ردوبدل اور اہم فیصلوں نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ عام طور پر اس نوعیت کے بڑے فیصلے کسی سیریز کے آغاز سے قبل کیے جاتے ہیں، لیکن اس بار سیریز کے دوران ہی ایک کے بعد ایک بڑی تبدیلی سامنے آ رہی ہے۔
پہلے ٹیسٹ کے بعد فیصلے، دوسرے کے بعد تبدیلیاں اور اب تیسرے ٹیسٹ سے قبل ایک نیا ہنگامہ، دورۂ انگلینڈ پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے غیر معمولی دوروں میں شمار ہونے لگا ہے، جہاں سیریز مکمل ہونے سے پہلے ہی قومی ٹیم کا نقشہ مسلسل بدلتا جا رہا ہے۔
پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا منظر!
صرف ایک یا دو ٹیسٹ میچز کے بعد ہی دورۂ انگلینڈ کے دوران پاکستان ٹیم میں بڑی سطح پر تبدیلیاں شروع ہو گئی ہیں۔
کھلاڑی تبدیل
کوچنگ اسٹاف تبدیل
سیریز کے دوران بڑے فیصلے
عام طور پر ایسی بڑی تبدیلیاں سیریز شروع ہونے سے پہلے کی جاتی… pic.twitter.com/q4mKlx3lEn— Urooj Jawed🇵🇰 (@uroojjawed12) September 1, 2026
شمائلہ بدر لکھتی ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ کے خلاف عبرت ناک شکست پر کرکٹ شائقین ناراض اور پریشان ہیں کہ ہماری کرکٹ کا انجام بھی ہاکی جیسا تو نہیں ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ بورڈ میں ان لوگوں کو ہونا چاہیے جو کرکٹ کے بارے میں تجربہ رکھتے ہو۔ جب تک کرکٹ میں پرچی اور سفارش چلتی رہے گی کرکٹ کا بہتر ہونا بہت مشکل ہے نہ جانے کتنے اچھے کھلاڑی اس نظام کی بھینٹ چڑھ گئے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ کے خلاف عبرت ناک شکست پر کرکٹ شائقین ناراض اور پریشان ہیں کہ ہماری کرکٹ کا انجام بھی ہاکی جیسا تو نہیں ہوگا
کرکٹ بورڈ میں ان لوگوں کو ہونا چاہئے جو کرکٹ کے بارے میں تجربہ رکھتے ہو
جب تک کرکٹ میں پرچی اور سفارش چلتی رہے گی کرکٹ کا بہتر ہونا بہت مشکل…— SHUMAILA BADAR. (@shumaila_badar1) September 1, 2026
واضح رہے کہ انگلینڈ نے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 2-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کرتے ہوئے سیریز اپنے نام کرلی۔














