’سندھ طاس معاہدہ ہماری ریڈ لائن ہے‘، عالمی عدالت میں پاکستانی کامیابی پر شہری خوش

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی عدالت انصاف نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کوغیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ پانی کے فیصلے نہیں کر سکتا، جولائی 2027 میں ایک مشن بھیجا جائے گا، جو بھارت کے آبی منصوبوں کا جائزہ لے گا، پاکستان نے عالمی محاذ پر مودی سرکار پر ایک اور کاری وار کیا ہے۔

فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں، جہاں کئی صارفین اسے پاکستان کے لیے اہم سفارتی اور قانونی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

ایک اور صارف نے کہا کہ سندھ کے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کے آبی مفادات اور سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے اصولی اور مضبوط مؤقف قابلِ تحسین ہے۔

احمد فارس کہتے ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ ایک لازمی معاہدہ ہے جس سے بھارت ایک طرفہ طور پر فرار حاصل نہیں کر سکتا۔

صدیق ساجد کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے سے اپنی مرضی کے مطابق صرف وہ حقوق منتخب نہیں کر سکتا جو اسے فائدہ پہنچائیں، جبکہ ان حقوق کو نظرانداز نہیں کر سکتا جو دوسرے فریق کے مفاد میں ہوں۔ اگر معاہدہ اسے پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اسی معاہدے کے تحت عائد ڈیزائن کی حدود، شفافیت اور طے شدہ تنازعاتی طریقۂ کار کی پابندی بھی لازم ہے۔

عاطف ختک کا کہنا تھا کیپاکستان کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنے اس موقف کا بار بار اعادہ کرنا چاہیے کہ سندھ طاس معاہدہ ریڈ لائن ہے اور اس میں تبدیلی ایکٹ آف وار ہوگا۔ ایسے فورم کی محض سمبولک اہمیت تو ہوتی ہے مگر پریکٹکلی کچھ نہیں ہوتا ان کا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کے لیے ’سندھ طاس‘ معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے ضامن میں عالمی بینک بھی شامل ہے۔ معاہدے کے تحت بھارت کو پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملے گا یعنی اُس کا ان دریاؤں پر کنٹرول زیادہ ہو گا۔ جب کہ جموں و کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاؤں چناب اور جہلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp