عالمی عدالت انصاف نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کوغیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ پانی کے فیصلے نہیں کر سکتا، جولائی 2027 میں ایک مشن بھیجا جائے گا، جو بھارت کے آبی منصوبوں کا جائزہ لے گا، پاکستان نے عالمی محاذ پر مودی سرکار پر ایک اور کاری وار کیا ہے۔
فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں، جہاں کئی صارفین اسے پاکستان کے لیے اہم سفارتی اور قانونی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
عالمی ثالثی عدالت کا سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) سے متعلق متفقہ فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی اہم قانونی کامیابی ہے۔ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل، ختم یا ’’التوا‘‘ میں نہیں رکھ سکتا، معاہدہ بدستور نافذ اور پابند ہے یہ فیصلہ بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی پاسداری کی…
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) September 1, 2026
ایک اور صارف نے کہا کہ سندھ کے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کے آبی مفادات اور سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے اصولی اور مضبوط مؤقف قابلِ تحسین ہے۔
سندھ کے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کے آبی مفادات اور سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے اصولی اور مضبوط مؤقف قابلِ تحسین ہے۔
— Źulfiqar Bhutto ps 61 (@ReisLala1) September 1, 2026
احمد فارس کہتے ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ ایک لازمی معاہدہ ہے جس سے بھارت ایک طرفہ طور پر فرار حاصل نہیں کر سکتا۔
عالمی عدالتِ ثالثی کا فیصلہ پاکستان اور خصوصاً سندھ کی عظیم سفارتی اور قانونی فتح ہے! وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک لازمی معاہدہ ہے جس سے بھارت ایک طرفہ طور پر فرار حاصل نہیں کر سکتا! https://t.co/jsgJxYZfdL
— احمد فارس 💙 (@Chahmedfaris) September 1, 2026
صدیق ساجد کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے سے اپنی مرضی کے مطابق صرف وہ حقوق منتخب نہیں کر سکتا جو اسے فائدہ پہنچائیں، جبکہ ان حقوق کو نظرانداز نہیں کر سکتا جو دوسرے فریق کے مفاد میں ہوں۔ اگر معاہدہ اسے پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اسی معاہدے کے تحت عائد ڈیزائن کی حدود، شفافیت اور طے شدہ تنازعاتی طریقۂ کار کی پابندی بھی لازم ہے۔
بھارت سندھ طاس معاہدے سے اپنی مرضی کے مطابق صرف وہ حقوق منتخب نہیں کر سکتا جو اسے فائدہ پہنچائیں، جبکہ ان حقوق کو نظرانداز نہیں کر سکتا جو دوسرے فریق کے مفاد میں ہوں۔ اگر معاہدہ اسے پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اسی معاہدے کے تحت عائد ڈیزائن کی حدود، شفافیت اور طے… https://t.co/r7YzA31rMq
— Siddeeq Sajid (@S_SajidOfficial) August 31, 2026
عاطف ختک کا کہنا تھا کیپاکستان کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنے اس موقف کا بار بار اعادہ کرنا چاہیے کہ سندھ طاس معاہدہ ریڈ لائن ہے اور اس میں تبدیلی ایکٹ آف وار ہوگا۔ ایسے فورم کی محض سمبولک اہمیت تو ہوتی ہے مگر پریکٹکلی کچھ نہیں ہوتا ان کا۔
پاکستان کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنے اس موقف کا بار بار اعادہ کرنا چاہیے کہ سندھ طاس معاہدہ ریڈ لائن ہے اور اس میں تبدیلی ایکٹ آف وار ہوگا۔ ایسے فورم کی محض سمبولک اہمیت تو ہوتی ہے مگر پریکٹکلی کچھ نہیں ہوتا ان کا۔ https://t.co/R6NX85M4Ee
— Aatif Khattak (@MalakAatifKhan) August 31, 2026
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کے لیے ’سندھ طاس‘ معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے ضامن میں عالمی بینک بھی شامل ہے۔ معاہدے کے تحت بھارت کو پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملے گا یعنی اُس کا ان دریاؤں پر کنٹرول زیادہ ہو گا۔ جب کہ جموں و کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاؤں چناب اور جہلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔














