ٹیم کی ناکامی پر سب جواب دیں گے، امام الحق کی انجری کی بھی تحقیقات ہوں گی : عاقب جاوید

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر سلیکشن کمیٹی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم کی تشکیل اور دورے کے دوران کھلاڑیوں کے استعمال، دونوں معاملات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے کے بعد انگلینڈ پہنچی، تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دو میچ گزر چکے ہیں لیکن ٹیم کسی بھی طرح مقابلہ نہیں کر پا رہی، اب ایک ٹیسٹ باقی ہے۔

اسکواڈ کی ذمہ داری لینے کو تیار ہیں

عاقب جاوید نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کوچ اور کپتان سے مشاورت کے بعد اسکواڈ تشکیل دیتی ہے اور اسکواڈ کی ذمہ داری لینے کو ہم بالکل تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی دورے پر حالات کے مطابق ٹیم کا بہترین امتزاج بنانا ضروری ہوتا ہے، پاکستان کے پاس اضافی وکٹ کیپر، آل راؤنڈر اور تیز گیند باز عبید شاہ بھی موجود تھے لیکن ان وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا گیا۔

عبید شاہ کو موقع دینے کی بات کوچ اور کپتان سے کی تھی

عاقب جاوید نے کہا کہ ان کی کوچ اور کپتان سے بات ہوئی تھی کہ تیز گیند باز عبید شاہ کو ٹیم میں شامل کیا جائے کیونکہ پاکستان ایک ہی نوعیت کے تین تیز گیند باز کھلا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عبید شاہ تقریباً 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرتے ہیں اور ان کی شمولیت سے ٹیم کے گیند بازی کے امتزاج میں تبدیلی آ سکتی تھی۔

آل راؤنڈر کو بھی شامل کیا جا سکتا تھا

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس آل راؤنڈر بھی موجود تھا، جبکہ بعض بیٹرز بدقسمتی سے گیند بازی نہیں کر رہے، اس لیے ٹیم میں آل راؤنڈر کو شامل کرکے بہتر توازن پیدا کیا جا سکتا تھا۔

سیریز ہارنے کے بعد تبدیلی کا وقت ہے

عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان دو ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے اور سیریز بھی ہاتھ سے نکل گئی ہے، اس لیے تیسرے ٹیسٹ میں کچھ تبدیلیاں کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے سے ٹیم کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے تو اس سے پاکستان کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہوگا، تاہم نئے کھلاڑیوں کو اچانک موقع دینے سے کپتان اور ان کھلاڑیوں پر بھی دباؤ آئے گا۔

مائیک ہیسن کو مکمل تعاون دیں گے

عاقب جاوید نے کہا کہ مائیک ہیسن نے اب ذمہ داری لی ہے اور سلیکشن کمیٹی ان کی مکمل معاونت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک انسان اکیلا ٹیم نہیں چلاتا، کپتان اور ہیڈ کوچ مل کر ٹیم کو آگے لے کر جاتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بابر اعظم اور مائیک ہیسن مل کر ٹیم کو کس طرح بہتر انداز میں ترتیب دیتے ہیں۔

ایک میچ میں نتیجہ بدلنا مشکل، لیکن ٹیم میں صلاحیت نظر آنی چاہیے

عاقب جاوید نے کہا کہ ایک میچ میں نتیجہ تبدیل کرنا مشکل ہوسکتا ہے، لیکن تیسرے ٹیسٹ میں دنیا کو یہ نظر آنا چاہیے کہ پاکستان کی ٹیم میں اب بھی صلاحیت موجود ہے اور کھلاڑی مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بابر اعظم کے بطور کپتان آخری ٹیسٹ کی بات درست نہیں

بابر اعظم کے مستقبل سے متعلق عاقب جاوید نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ تیسرا ٹیسٹ بطور کپتان بابر اعظم کا آخری ٹیسٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بابر اعظم ٹیم کے سینئر کھلاڑی اور بہترین بیٹر ہیں، اسی بنیاد پر انہیں کپتان بنایا گیا، جبکہ کپتانی کے فیصلوں میں کپتان اور کوچ دونوں کا کردار ہوتا ہے۔

سرفراز احمد کو ہٹانے سے زیادہ تقرری پر سوال ہونا چاہیے

عاقب جاوید نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں صرف یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ سرفراز احمد کو کیوں ہٹایا گیا، بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ انہیں پہلے ذمہ داری کیوں دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑی اور کپتان وقت کے ساتھ تجربے سے سیکھتے ہیں اور کسی کو ایک مرتبہ عہدے سے ہٹانے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوبارہ ذمہ داری نہیں سنبھال سکتا۔

سینئر کھلاڑیوں کو کارکردگی کا پیغام دینا ضروری ہے

ان کا کہنا تھا کہ اگر سینئر کھلاڑی مسلسل کارکردگی نہیں دکھا رہے تو انہیں بھی ایک پیغام دینا ضروری ہے کہ صرف ایک مرتبہ منتخب ہوجانے کے بعد ہر ٹیسٹ کھیلنا لازمی نہیں۔

عاقب جاوید نے کہا کہ سلمان علی آغا اور محمد رضوان طویل عرصے سے ٹیم کا حصہ ہیں، لیکن اگر کسی کھلاڑی کی فارم مکمل طور پر خراب ہو تو اس کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

امام الحق کی انجری پر انکوائری ہوگی

امام الحق کی انجری کے حوالے سے عاقب جاوید نے کہا کہ اس معاملے پر بھی انکوائری ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کھلاڑی انجری کے باعث دونوں اننگز میں بیٹنگ کے لیے نہیں آتا تو اس پر سوال ضرور اٹھتا ہے، تاہم وہ اس مرحلے پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ انجری جعلی تھی۔

صرف کھلاڑی نہیں، سب سے سوال ہوگا

عاقب جاوید نے کہا کہ خراب کارکردگی پر صرف کھلاڑیوں سے سوال نہیں ہوگا بلکہ سب سے ذمہ داری کا پوچھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سلیکشن کمیٹی نے جو ٹیم منتخب کی تھی، اس کی ذمہ داری وہ قبول کرتے ہیں، تاہم ٹیم کو میدان میں کس طرح استعمال کیا گیا، اس کی ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ، کوچ اور کپتان پر بھی عائد ہوتی ہے۔

مصباح الحق کے استعفے کی تصدیق

عاقب جاوید نے مصباح الحق کے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کی ناقص کارکردگی پر ہر فرد سے سوال ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کسی عہدے سے الگ ہونا ایک آپشن ہے، جبکہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ کوئی شخص اسی سمت میں مزید کام کرنے کی کوشش کرے، تاہم یہ ہر فرد کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔

کیا عاقب جاوید بھی استعفیٰ دیں گے؟

عاقب جاوید سے جب سوال کیا گیا کہ مصباح الحق کے استعفے کے بعد کیا وہ بھی سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دیں گے تو انہوں نے کہا کہ فی الحال میں نے اپنا مؤقف دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عہدہ چھوڑ دینا ایک راستہ ہے جبکہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ اسی سمت میں مزید کام جاری رکھا جائے، تاہم یہ فیصلہ ہر فرد کو اپنی صورتحال کے مطابق کرنا ہوتا ہے۔

پاکستان کرکٹ کے زوال کی بڑی وجہ کھلاڑیوں کی تیاری اور ڈومیسٹک نظام کی کمزوری ہے

عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال کسی ایک فرد یا موجودہ انتظامیہ کے فیصلوں کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی برسوں سے جاری مسائل کا تسلسل ہے، جن میں کھلاڑیوں کی تربیت، اکیڈمیز کی حالت اور نئی صلاحیت کو سامنے لانے میں ناکامی نمایاں ہے۔

2009 کے بعد کرکٹ کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا

عاقب جاوید نے کہا کہ 2009 میں سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان اپنی کرکٹ متحدہ عرب امارات منتقل کرنے پر مجبور ہوا، جس کے نتیجے میں ملک میں موجود اکیڈمیز، اسٹیڈیمز اور تربیتی مراکز طویل عرصے تک مؤثر انداز میں استعمال نہیں ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ 2004 میں بننے والی نیشنل اکیڈمی بھی 2009 میں بند ہوگئی تھی اور اسے گزشتہ سال دوبارہ فعال کیا گیا۔

اکیڈمی میں کئی بنیادی سہولتیں بھی تبدیل نہیں ہوئیں

ان کا کہنا تھا کہ اتنے طویل عرصے کے دوران بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر توجہ نہیں دی گئی، یہاں تک کہ اکیڈمی میں کئی برس پرانی سہولتیں اور آلات بھی تبدیل نہیں کیے گئے۔

عاقب جاوید نے کہا کہ اس 14، 15 سال کے خلا کے دوران کھلاڑیوں کی ترقی کا عمل بھی متاثر ہوا، جس کا اثر آج قومی ٹیم کی کارکردگی میں نظر آ رہا ہے۔

2017 کے بعد مسلسل تنزلی کیوں ہوئی؟

عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان 2016 میں ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر ایک بنا، 2017 میں ٹی 20  کی عالمی درجہ بندی میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی اور اسی سال چیمپئنز ٹرافی جیتی، لیکن اس کے بعد مسلسل تنزلی دیکھنے میں آئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ صورتحال کسی ایک چیئرمین، کپتان یا کوچ کے دور کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل عرصے کے مسائل ہیں۔

اصل مسئلہ کھلاڑیوں کا معیار اور تربیت ہے

عاقب جاوید کے مطابق سلیکٹرز یا کوچ اپنی جگہ کتنی ہی کوشش کر لیں، آخرکار میدان میں کارکردگی کھلاڑی نے دینی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر کھلاڑی کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ روزانہ اپنی خامیوں پر کام کرے، اپنی کارکردگی بہتر بنائے اور خود کو مسلسل بہتر بنانے کی کوشش کرے۔

غلطیوں کی بروقت اصلاح نہ ہونے سے نقصان ہوا

ان کا کہنا تھا کہ بعض ایسے کھلاڑی موجود ہیں جن کی خامیوں کی نشاندہی کرکے مختصر تربیتی پروگرام کے ذریعے انہیں بہتر کیا جا سکتا ہے، لیکن اس جانب مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔

عاقب جاوید نے کہا کہ بابر اعظم سمیت مختلف کھلاڑیوں کی تکنیکی خامیوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ گیند بازوں کی رفتار اور فٹنس برقرار رکھنے کے لیے بھی مسلسل تربیت ضروری ہے۔

نئے کھلاڑیوں کو تیار کرنے کا نظام کمزور رہا

عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ باصلاحیت کھلاڑی موجود نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دستیاب صلاحیت کو مسلسل تیار اور نکھارا نہیں گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایک کھلاڑی آج ٹیم میں جگہ بنا لیتا ہے تو وہ اگلے دس، بارہ سال کھیل سکتا ہے، لیکن اس دوران نیچے سے آنے والے کھلاڑیوں کی تربیت بھی ساتھ ساتھ جاری رہنی چاہیے۔

ایک نسل کے بعد اگلا ٹیلنٹ کہاں سے آئے گا؟

ان کا کہنا تھا کہ اگر نچلی سطح پر کھلاڑیوں کی تربیت کا عمل جاری نہ رکھا جائے تو موجودہ کھلاڑیوں کے ریٹائر ہونے کے بعد قومی ٹیم کے لیے نئی صلاحیت سامنے نہیں آئے گی۔

عاقب جاوید نے کہا کہ یہی پاکستان کرکٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کہ موجودہ کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ مستقبل کے کھلاڑیوں کو بھی تیار کیا جائے۔

ریڈ بال کرکٹ میں دلچسپی کم ہونا بھی بڑا مسئلہ ہے

عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان کو ریڈ بال کرکٹ میں سب سے بڑا نقصان کھلاڑیوں کی دلچسپی کم ہونے سے ہوا ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں کھلاڑیوں کا بنیادی ہدف فرسٹ کلاس اور ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا ہوتا تھا، لیکن اب دنیا بھر میں ٹی 20 کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مالی فوائد نے کھلاڑیوں کی ترجیحات تبدیل کردی ہیں۔

ٹی 20 کرکٹ نے کھلاڑیوں کی ترجیحات بدل دیں

انہوں نے کہا کہ جب ایک کھلاڑی قومی سطح پر مستحکم ہوجاتا ہے تو اس کے پاس یہ اختیار بھی آجاتا ہے کہ وہ اپنی توجہ کس فارمیٹ پر مرکوز کرے۔

عاقب جاوید کے مطابق ٹی20ی کرکٹ میں زیادہ مواقع اور مالی فوائد کی وجہ سے کھلاڑیوں کی توجہ ریڈ بال کرکٹ سے ہٹ رہی ہے، جس کا براہ راست اثر ٹیسٹ کرکٹ پر پڑ رہا ہے۔

مسلسل کارکردگی کے لیے نچلی سطح پر کام ضروری ہے

عاقب جاوید نے کہا کہ قومی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے صرف موجودہ کھلاڑیوں یا ٹیم انتظامیہ میں تبدیلیاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ نچلی سطح سے کھلاڑیوں کی تربیت، اکیڈمیز کی بہتری اور ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔

ریڈ بال کرکٹ کی بہتری کیلئے کھلاڑیوں کو ٹی 20 اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں توازن رکھنا ہوگا

عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کے ڈھانچے کو نچلی سطح سے بہتر بنانے اور نوجوان کھلاڑیوں کی مناسب تربیت پر توجہ دینا ہوگی، جبکہ موجودہ کھلاڑیوں کو بھی ٹی20 اور ریڈ بال کرکٹ کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

اسکول اور کلب کرکٹ کا نظام پہلے جیسا نہیں رہا

عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان میں جس طرح پہلے کلب اور اسکول کرکٹ کا نظام چلتا تھا، اب وہ پہلے جیسا نہیں رہا، اس لیے کھلاڑیوں کی تربیت اور نشوونما کے لیے اکیڈمیوں اور دیگر اداروں میں کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملکی کرکٹ کو مضبوط بنانے کے لیے انڈر ۱۵، انڈر ۱۷، انڈر ۱۸ اور انڈر ۱۹ کی سطح پر کھلاڑیوں کو تیار اور گروم کرنا ضروری ہے۔

فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی ذمہ داری کھلاڑیوں کی بھی ہے

عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں جو کھلاڑی پہلے ہی اپنی جگہ بنا چکے ہیں، ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ریڈ بال کرکٹ پر توجہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں کھلاڑیوں کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلیں کیونکہ انہیں خود معلوم تھا کہ ریڈ بال کرکٹ کھیلنے سے ٹیسٹ کرکٹ میں بہتری آتی ہے۔

ٹی20 اور ریڈ بال کرکٹ میں توازن ضروری ہے

عاقب جاوید نے کہا کہ دنیا بھر میں ٹی 20 کرکٹ میں زیادہ پیسہ اور مواقع ہونے کی وجہ سے کھلاڑیوں کی توجہ بھی اس فارمیٹ کی جانب زیادہ ہو رہی ہے، تاہم ریڈ بال کرکٹ کو بہتر بنانے کے لیے دونوں فارمیٹس کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کھلاڑیوں کی تمام تر توجہ صرف ٹی20 کرکٹ پر ہوگی تو ٹیسٹ کرکٹ بہتر نہیں ہوسکتی۔

نئے مرکزی معاہدے میں ڈومیسٹک کرکٹ کی شرط

عاقب جاوید نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مرکزی معاہدے کے لیے نیا فارمولا متعارف کرایا ہے، جس کے تحت کھلاڑیوں کو مخصوص مقدار میں ڈومیسٹک اور چار روزہ کرکٹ کھیلنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کھلاڑیوں کو ریڈ بال اور ڈومیسٹک کرکٹ کی جانب متوجہ کرنا ہے۔

بورڈ کے ساتھ کھلاڑیوں کی بھی ذمہ داری ہے

عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ کرکٹ کی بہتری کے لیے بورڈ اپنی ذمہ داری پوری کرے گا، لیکن کھلاڑیوں کی بھی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی کھیل کو بہتر بنانے اور اسے آگے لے جانے کے لیے سنجیدگی سے کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ صرف کوشش کافی نہیں بلکہ درست سمت میں کوشش کرنا بھی ضروری ہے، اور ایک ہی غلطی بار بار دہرانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp