مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی نگرانی اور ضابطہ کاری کے معاملے پر امریکا اور یورپی یونین کے مؤقف میں واضح اختلاف سامنے آیا ہے، جہاں واشنگٹن نے اے آئی پر پابندیاں نرم کرنے پر زور دیا ہے جبکہ یورپی یونین نے اپنے سخت قوانین پر عمل درآمد مزید تیز کردیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق امریکا نے شمالی کیرولائنا کے شہر چیپل ہل میں جی 20 کے وزارتی اجلاس میں اے آئی سے متعلق مخصوص قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے ایسے ضوابط اپنانے کی تجویز دی جو کسی مخصوص ٹیکنالوجی کو ہدف نہ بنائیں۔ امریکی ٹیکنالوجی مشیر مائیکل کراٹسیوس نے کہا کہ ہر نئی ٹیکنالوجی کے لیے الگ قوانین بنانے کے بجائے عمومی اصول وضع کیے جانے چاہییں۔
US urges hands-off approach to AI regulation at G20 tech meeting https://t.co/BCFYfRzUJt https://t.co/BCFYfRzUJt
— Reuters (@Reuters) September 1, 2026
اجلاس میں میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ اور ٹیسلا کے مالک ایلون مسک بھی شریک ہوئے۔ دونوں نے اے آئی کی ترقی پر کم پابندیوں کی حمایت کی۔ زکربرگ نے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے بڑی تعداد میں ہنرمند کارکنوں کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ مسک نے خبردار کیا کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے بجلی کے استعمال کے باعث اگلے ہی سال بجلی کی نمایاں کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب یورپی کمیشن نے 30 سے زائد اے آئی کمپنیوں سے معلومات طلب کی ہیں تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ وہ یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ کی پابندی کررہی ہیں یا نہیں۔ کمیشن کے مطابق درخواستوں کا بنیادی محور اے آئی کی حفاظت اور کاپی رائٹ قوانین کی پاسداری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ورک پلیس پر مصنوعی ذہانت کے بارے میں ملازمین کے تاثرات، نئی نسل کیا سوچتی ہے؟
یورپی یونین کا اے آئی ایکٹ بعض انتہائی خطرناک اے آئی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتا ہے جبکہ دیگر خدمات کے لیے شفافیت کے تقاضے مقرر کرتا ہے۔ برسلز نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی پر ضروری کارروائی کی جائے گی۔













