مصنوعی ذہانت پر امریکا اور یورپی یونین آمنے سامنے، واشنگٹن کا کم پابندیوں پر زور

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی نگرانی اور ضابطہ کاری کے معاملے پر امریکا اور یورپی یونین کے مؤقف میں واضح اختلاف سامنے آیا ہے، جہاں واشنگٹن نے اے آئی پر پابندیاں نرم کرنے پر زور دیا ہے جبکہ یورپی یونین نے اپنے سخت قوانین پر عمل درآمد مزید تیز کردیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق امریکا نے شمالی کیرولائنا کے شہر چیپل ہل میں جی 20 کے وزارتی اجلاس میں اے آئی سے متعلق مخصوص قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے ایسے ضوابط اپنانے کی تجویز دی جو کسی مخصوص ٹیکنالوجی کو ہدف نہ بنائیں۔ امریکی ٹیکنالوجی مشیر مائیکل کراٹسیوس نے کہا کہ ہر نئی ٹیکنالوجی کے لیے الگ قوانین بنانے کے بجائے عمومی اصول وضع کیے جانے چاہییں۔

اجلاس میں میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ اور ٹیسلا کے مالک ایلون مسک بھی شریک ہوئے۔ دونوں نے اے آئی کی ترقی پر کم پابندیوں کی حمایت کی۔ زکربرگ نے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے بڑی تعداد میں ہنرمند کارکنوں کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ مسک نے خبردار کیا کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے بجلی کے استعمال کے باعث اگلے ہی سال بجلی کی نمایاں کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب یورپی کمیشن نے 30 سے زائد اے آئی کمپنیوں سے معلومات طلب کی ہیں تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ وہ یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ کی پابندی کررہی ہیں یا نہیں۔ کمیشن کے مطابق درخواستوں کا بنیادی محور اے آئی کی حفاظت اور کاپی رائٹ قوانین کی پاسداری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ورک پلیس پر مصنوعی ذہانت کے بارے میں ملازمین کے تاثرات، نئی نسل کیا سوچتی ہے؟

یورپی یونین کا اے آئی ایکٹ بعض انتہائی خطرناک اے آئی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتا ہے جبکہ دیگر خدمات کے لیے شفافیت کے تقاضے مقرر کرتا ہے۔ برسلز نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی پر ضروری کارروائی کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا