بلوچستان کے علاقے زیارت کراس میں سیکیورٹی تنصیبات پر حملے کی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم حکام کے مطابق حملے میں 5 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 7 زخمی ہوئے، جن میں کیپٹن ضیا اللہ بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی مؤقف میں حملے کو فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے باہمی گٹھ جوڑ سے جوڑتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے ٹی ٹی پی کے دعوے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا دراصل پاکستان دشمن عناصر کی تشہیر کے مترادف ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلح افراد نے زیارت کراس کے قریب پولیس چوکی، کسٹمز کے گودام اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ ٹی ٹی پی نے اپنے دعوے میں 15 پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم سرکاری اطلاعات کے مطابق 5 اہلکار شہید اور 7 زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:’فتنۃ الہندوستان‘ کا بلوچستان کی معیشت پر حملہ، تجارتی گاڑیوں کی لوٹ مار اور عوام کا معاشی استحصال
پاکستانی مؤقف کے مطابق حالیہ معرکہ حق میں شکست سے دوچار ہونے والے فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان بلوچستان میں ہونے والے بزدلانہ حملوں کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ دہشتگرد عناصر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
پاکستانی بیان میں بھارت کے جنگی طیاروں، خصوصاً رافیل طیاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جن ہتھیاروں کو ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا، ان کے ملبے سے بھی سبق حاصل کیا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان دہشتگردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے اور دہشتگردی میں ملوث عناصر کو جواب دیا جائے گا۔ اس میں مزید کہا گیا کہ دہشتگردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ میں شامل تمام شراکت داروں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔
دوسری جانب زیارت حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی کی جانب سے قبول کیے جانے کے دعوے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تجزیے کے مطابق حملے کا طریقہ کار ٹی ٹی پی کی عمومی کارروائیوں سے مختلف دکھائی دیتا ہے، جس کی بنیاد پر اسے ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ممکنہ رابطے سے جوڑا جا رہا ہے۔ تاہم دونوں گروہوں کے درمیان اس مخصوص حملے میں براہِ راست رابطے یا مشترکہ کارروائی کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:پمز سانحہ، سیکریٹری ہیلتھ ماضی کے ملزم، بی ایل اے کی دہشتگرد خواتین پر انعام
پاکستانی مؤقف میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بی ایل اے کی کارروائی پر ٹی ٹی پی کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے کو بھارتی میڈیا کی طرف سے نمایاں اور بڑھا چڑھا کر پیش کیا جانا دراصل پاکستان مخالف عناصر کو تشہیر فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشتگرد گروہوں اور ان کے مبینہ معاونین کے درمیان گٹھ جوڑ واضح ہے اور پاکستان اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔
ادھر بھارتی میڈیا کی بعض رپورٹس میں ٹی ٹی پی کے دعوے کو پاکستانی حکام کی اطلاعات سے آزادانہ تصدیق کے بغیر حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق کسی دہشتگرد گروہ کے دعوے کو بغیر تصدیق نمایاں کرنا نہ صرف حملے کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے بلکہ دہشتگرد تنظیم کی صلاحیت کے بارے میں بھی مبالغہ آمیز تاثر پیدا کرسکتا ہے۔
پاکستانی بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ دہشتگردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں شریک تمام عناصر کو قانون کے مطابق جواب دیا جائے گا۔














