اسپین میں رواں موسم گرما کے دوران شدید گرمی کی لہروں نے صدیوں پرانے روایتی دستی پنکھے ’ابانیکو‘ کو ایک بار پھر مقبول بنا دیا ہے، جسے خواتین کے ساتھ اب بڑی تعداد میں مرد بھی استعمال کر رہے ہیں۔
اسپین کے ہجوم سے بھرے میٹرو اسٹیشنوں، دھوپ میں تپتے چوراہوں، کنسرٹس اور موسیقی کے میلوں میں روایتی فولڈنگ دستی پنکھے ہر طرف دکھائی دے رہے ہیں۔ چھوٹا اور پرس میں بہ آسانی سما جانے والا یہ پنکھا کلائی کی معمولی جنبش سے نیم دائرے کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور حیرت انگیز طور پر ٹھنڈی ہوا فراہم کرتا ہے۔
واضح رہے کہ رواں موسم گرما میں مغربی یورپ میں آنے والی مسلسل ہیٹ ویوز کے باعث اسپین میں درجہ حرارت انتہائی بلند رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے یورپ ہیٹ ویو: اسپین میں 212 ہلاک
20 سالہ آنا فلیو بھی میڈرڈ کے معروف پُوئرتا ڈیل سول چوک کے قریب ہاتھ میں کاغذی پنکھا لیے نظر آئیں۔ ان کے مطابق وہ گرمیوں میں یہ پنکھا ہر جگہ اپنے ساتھ رکھتی ہیں۔ 53 سالہ ڈیوڈ گونزالیز نے بھی رنگ برنگا پنکھا ہاتھ میں تھام رکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انہیں قدرے جھجھک محسوس ہوئی کیونکہ پنکھا عموماً خواتین استعمال کرتی ہیں، تاہم اب وہ اسے نہ صرف کارآمد بلکہ خوشگوار محسوس کرتے ہیں۔
ایشیا سے یورپ تک پنکھے کا سفر
مورخین کے مطابق فولڈنگ پنکھا 15ویں اور 16ویں صدی میں پرتگالی بحری تجارت کے ذریعے ایشیا سے یورپ پہنچا۔ 17ویں صدی کے وسط تک اسپین میں بھی اس کی مقبولیت بڑھنے لگی۔
مشہور ہسپانوی مصور ڈیاگو ویلاسکیز نے اپنی معروف پینٹنگ’دی لیڈی ود اے فین ‘ میں بھی ایک خاتون کو پنکھا تھامے دکھایا۔ 18ویں صدی میں ویلنسیا اسپین میں پنکھے بنانے کا اہم مرکز بن گیا، جبکہ میڈرڈ بھی اس صنعت کا نمایاں مرکز رہا۔
19ویں صدی میں اسپین میں فلیمینکو رقص کے ساتھ پنکھے کا تعلق مزید مضبوط ہوا اور رقاصاؤں نے اسے رقص کے اظہار اور دلکشی کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ وقت کے ساتھ ابانیکو ہسپانوی ثقافت کی نمایاں علامت بن گیا۔ تاریخی طور پر خواتین پنکھے کی حرکات کے ذریعے پسندیدگی، ناپسندیدگی یا دلچسپی کا اظہار بھی کرتی تھیں، جسے ’پنکھے کی زبان‘ کہا جاتا تھا۔
گرمی کی لہر سے کاروبار بھی چمک اٹھا
میڈرڈ کی 150 سال سے زائد پرانی دکان ’کاسا دے ڈیئیگو‘ میں آج بھی اسپین میں تیار کردہ مختلف اقسام کے پنکھے فروخت کیے جاتے ہیں۔ دکان کے مالک جیویر ییرانڈی کے مطابق، ’ہم گرمی سے روزگار کماتے ہیں۔‘ یہاں سادہ لکڑی کے پنکھوں سے لے کر صدف، ہاتھ سے بنائی گئی پینٹنگز اور نفیس پھول دار نقش و نگار سے مزین مہنگے پنکھے بھی دستیاب ہیں۔ ان کی قیمت تقریباً 30 یورو سے شروع ہو کر 500 یورو تک پہنچتی ہے، جبکہ انتہائی اعلیٰ معیار کے بعض پنکھے 6 ہزار یورو تک میں فروخت ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اسپین کا مناسب فیس والا ڈیجیٹل نومیڈ ویزا کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
شدید گرمی اور میڈرڈ میں بڑھتی ہوئی سیاحت نے ان روایتی پنکھوں کی طلب میں مزید اضافہ کیا ہے۔ دکانداروں کے مطابق غیر ملکی سیاح بھی انہیں بطور سووینئر خرید رہے ہیں۔
دوسری جانب سیاحتی مقامات کے قریب پلاسٹک کے سستے پنکھے بھی چند یورو میں دستیاب ہیں۔ میڈرڈ کے ایک بیلوں کے اکھاڑے کے باہر لکڑی کے روایتی پنکھے فروخت کرنے والی جوانی دوران کے مطابق، یہ اگرچہ بہترین معیار کے نہیں، لیکن ’گرمیوں کا موسم گزارنے کے لیے کافی ہیں۔‘














