کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کی ایک مسجد کو اسلامو فوبیا کا نشانہ بناتے ہوئے نامعلوم افراد نے دیواروں پر موت کی دھمکیاں لکھ دیں اور دروازوں پر خنزیر کا کچا گوشت لٹکا دیا گیا۔
فلیٹ ووڈ اسلامک اکیڈمی سوسائٹی کے ارکان نے اس نفرت انگیز واقعے کو اس وقت دریافت کیا جب وہ ویک اینڈ پر فجر کی نماز کے لیے مسجد پہنچے، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی ہیٹ کرائم کے طور پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
Please see this important statement from the Fleetwood Islamic Academy Society in Surrey, BC regarding a recent incident where the mosque was vandalized with Islamophobic threats and raw animal matter.
Threats like “Get out or die!” and “Islam is Trash!” were found written on… pic.twitter.com/MYLeX8t0iq
— NCCM (@nccm) September 1, 2026
فلیٹ ووڈ اسلامک سینٹر کی انتظامیہ کے مطابق شرپسندوں نے مسجد کی دیواروں پر ‘نکل جاؤ یا مر جاؤ’ جیسے انتہائی غلیظ اور دھمکی آمیز پیغامات درج کیے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پیغام
اس کے علاوہ مسجد کے دروازے کے ہینڈل اور کھڑکیوں کے قریب کچا بیکن (خنزیر کا گوشت) بھی لٹکایا گیا تھا جس کا مقصد مسلمانوں کی مذہبی دل آزاری کرنا تھا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ جمعہ کی رات 11:00 بجے سے ہفتہ کی صبح 5:00 بجے کے درمیان پیش آیا ہے۔
حکومتی ردعمل اور پولیس کی تحقیقات
برٹش کولمبیا کی اٹارنی جنرل نکی شرما نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نفرت انگیز واقعے اور تشدد کی دھمکیوں کے بعد ان کی تمام تر ہمدردیاں مسلم کمیونٹی اور اسلامک سوسائٹی کے ساتھ ہیں۔
دوسری جانب، سرے پولیس کا کہنا ہے کہ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس نے اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ اسلامک سوسائٹی کی جانب سے بھی حقائق سامنے لانے کے لیے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا جا رہا ہے۔
مسلم کمیونٹی کے لیے یہ حالیہ واقعہ اس لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ یہ 2017 میں کیوبیک سٹی کی مسجد پر ہونے والے ہولناک حملے کی تلخ یاد تازہ کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:اسلاموفوبیا عالمی امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، خورشید احمد ندیم
یاد رہے کہ جنوری 2017 میں اسلامک کلچرل سینٹر آف کیوبیک سٹی میں فائرنگ کے واقعے سے قبل بھی مسجد کے باہر خنزیر کا گوشت پھینکا گیا تھا۔
اس خونی واقعے میں ایک مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 6 نمازی شہید اور کئی دیگر شدید زخمی ہو گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد کینیڈا میں اسلامو فوبیا کے حوالے سے سخت قوانین بنائے گئے تھے، تاہم حالیہ واقعے نے ایک بار پھر کینیڈین مسلمانوں میں عدم تحفظ کے احساس کو جنم دیا ہے۔














