امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول کے استعفے کے بعد وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کو فوج میں غیر ضروری اکھاڑ پچھاڑ اور ‘کلچر وار’ پر توجہ دینے کے باعث شدید تنقید کا سامنا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق اہم جرنیلوں کی من مانی برطرفیوں نے امریکی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عمل کو متاثر کیا ہے، تاہم پینٹاگون نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
Prior to his resignation Monday, Army Secretary Dan Driscoll brought his concerns about the future of the Army under Defense Secretary Pete Hegseth directly to President Trump, during a closed-door meeting last week at the White House, four people familiar with the conversation… pic.twitter.com/D8gvJkIIif
— OSINTdefender (@sentdefender) September 1, 2026
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ڈین ڈرسکول کی رخصتی سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوج کی جدیدیت، جنگی تیاریوں اور بالخصوص ان اہم جرنیلوں کی برطرفی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا جو فوج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے پراجیکٹس کو لیڈ کر رہے تھے۔
حال ہی میں آرمی چیف آف اسٹاف رینڈی جارج، جنرل کرسٹوفر ڈونا ہیو اور جنرل ڈیوڈ ہوڈنے کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔
یہ 3 اعلیٰ افسران امریکی فوج کو جدید جنگی طریقوں، بالخصوص میدانِ جنگ میں ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے حوالے سے تیار کرنے پر کام کر رہے تھے۔
ایک سابق اعلیٰ فوجی اہلکار نے بتایا کہ جب آپ صوابدیدی اور غیر واضح وجوہات کی بنا پر اہم لوگوں کو فارغ کرتے ہیں تو اس سے ایک خلا اور کنفیوژن پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے امریکی فوج اس وقت شدید ہنگامی صورتحال اور خلفشار سے گزر رہی ہے۔
پینٹاگون کا دفاع اور ماہرین کی تنقید
ان سنگین الزامات کے جواب میں پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے شدید ردعمل دیتے ہوئے ان دعوؤں کو ‘مکمل من گھڑت’ قرار دیا ہے کہ پیٹ ہیگسیٹھ فوج کی جدیدیت پر توجہ نہیں دے رہے۔
Breaking: Army Secretary Dan Driscoll has resigned following months of tension with Pete Hegseth https://t.co/IjckUan9sF
— The Wall Street Journal (@WSJ) August 31, 2026
دلچسپ امر یہ ہے کہ خود ڈین ڈرسکول نے منگل کو عوامی سطح پر وزیر دفاع کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم وزیر دفاع ہیگسیٹھ کی حمایت کے بغیر وہ ترقی ہرگز نہیں کر سکتے تھے جو ہم نے کی ہے۔
تاہم دفاعی امور کے ماہر مائیک او ہینلون نے سی این این کو بتایا کہ ہیگسیٹھ کی ‘کلچر وار’ پر غیر ضروری توجہ اور ان کے رویے فوج کی اصل ترجیحات سے توجہ ہٹا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع ان جھوٹے انتقامی معاملات اور لڑائیوں میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں۔
امریکی فوج اس وقت ایک انتہائی اہم اور نازک موڑ سے گزر رہی ہے جہاں اسے میدانِ جنگ کی تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور ڈرون وارفیئر جیسے جدید چیلنجز کا سامنا ہے۔
ایسے میں اعلیٰ فوجی قیادت کی اچانک تبدیلیوں اور نظریاتی نوعیت کی بحثوں نے امریکی دفاعی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
موجودہ اعلیٰ سطح کی اکھاڑ پچھاڑ نے آرمی کو ایک ایسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے جہاں اسے اپنی فورسز کو جدید بھی بنانا ہے اور اندرونی انتظامی خلفشار سے بھی نمٹنا ہے۔














