کیا پیوٹن کی برطانیہ کو ’پوشیدہ دھمکی‘ مغرب کے خلاف روسی دباؤ مہم کا حصہ ہے؟

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے برطانیہ کو دی گئی بظاہر پوشیدہ دھمکی روس کی مغرب کے خلاف جاری دباؤ کی مہم کا حصہ ہے۔ پیوٹن نے برطانوی صحافی کے اس سوال پر کہ یوکرین کو برطانوی ہتھیاروں کی فراہمی کے جواب میں روس برطانیہ میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے یا نہیں، مختصر جواب دیا کہ یہ ’خفیہ، فوجی راز‘ ہے۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پیوٹن کا یہ جواب نہ واضح طور پر ’ہاں‘ تھا اور نہ ’نہیں‘، تاہم اس سے برطانیہ کے لیے یہ سوال ضرور برقرار رہا کہ ماسکو کے آئندہ اقدامات کیا ہوسکتے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے تجزیے میں اسے کریملن کی جانب سے نفسیاتی دباؤ قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد برطانیہ کو روس کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں سوچنے اور یوکرین کی حمایت میں اپنے کردار پر غور کرنے پر مجبور کرنا ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ روسی اخبار ’ماسکووسکی کومسومولیٹس‘ نے چند روز قبل بھی برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں روس کو خوابوں میں نہیں بلکہ ’ڈراؤنے خوابوں‘ میں دیکھنا چاہیے۔

تاہم برطانوی میڈیا نے واضح کیا کہ پیوٹن کے بیان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ روس برطانیہ میں کسی ہدف پر میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپ کے دیگر حصوں میں بھی روسی سرگرمیوں کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ جرمنی نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ لیپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کے پیچھے روس کا ہاتھ تھا، جبکہ جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے اسے یورپ میں روسی ’ہائبرڈ کارروائیوں‘ کے ایک معروف طریقۂ کار کا حصہ قرار دیا۔

پیوٹن نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران صرف برطانیہ ہی کو نہیں بلکہ مجموعی طور پر مغرب کو بھی بالواسطہ دھمکی دی۔ انہوں نے مغربی ممالک کو ’شارکس‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی روس کو نیچے دھکیلنے، نگلنے یا ہڑپ کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے ’دانتوں کا جواب‘ دیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیوٹن، شی جن پنگ اور ایرانی صدر کرغزستان میں ایس سی او اجلاس میں شریک ہوں گے

برطانوی میڈیا کے مطابق بشکیک، کرغزستان میں ہونے والی پریس کانفرنس نے پیوٹن کی سوچ اور موجودہ مؤقف کی بھی جھلک دکھائی۔ تقریباً 45 منٹ تک روسی صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے پیوٹن پُراعتماد اور جارحانہ نظر آئے اور انہوں نے یوکرین جنگ میں روس کی فتح کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں کوئی شک نہیں کہ ’دشمن بکھر جائے گا‘، تاہم جنگ کو ساڑھے 4 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور یوکرین اب بھی مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے۔ پیوٹن نے اس موقع پر یوکرین کے تنازع کے لیے ’جنگ‘ کا لفظ بھی استعمال کیا، حالانکہ کریملن سرکاری طور پر اسے اب بھی ’خصوصی فوجی آپریشن‘ قرار دیتا ہے۔

روسی صدر نے ایک بار پھر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچیوں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی اور کہا کہ وہ دونوں ماسکو کے لیے ’ہمیشہ خوش آمدید مہمان‘ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگر ٹرمپ کے ایلچی مستقبل قریب میں ماسکو کا دورہ کرتے ہیں تو انہیں ایسے روسی صدر کا سامنا ہوگا جو یوکرین میں امن معاہدہ اپنی شرائط پر کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp