بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد: حریت رہنما یاسین ملک کا مقدمہ لڑنے سے انکار

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی قید میں موجود نامور کشمیری حریت رہنما یاسین ملک نے بھارتی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خلاف درج تمام کیسز کی مزید پیروی اور مقدمہ لڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل ایک مفصل حلف نامہ جمع کرایا ہے، جسے عدالت نے ان کے 24 اگست کے تحریری بیانات کے ساتھ باقاعدہ شہادت کا حصہ بنا لیا ہے۔

عدالتی ڈرامے اور سزائے موت پر ردِعمل

یاسین ملک نے اپنے حلف نامے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارتی حکومت 36 سال پرانے ایک من گھڑت اور جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے انہیں پھانسی دینے کی سازش مکمل کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع باقی نہیں رہی، تاہم اگر عدالت انہیں سزائے موت بھی سنا دیتی ہے تو وہ اسے تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لیے خندہ پیشانی سے قبول کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی سزا کو قبول کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے عائد کردہ من گھڑت الزامات کو تسلیم کر لیا ہے۔

سرلا بھٹ کیس کی سخت تردید اور انکشافات

حریت رہنما نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں اپنے ملوث ہونے کے تمام تر الزامات کی دوٹوک تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرلا بھٹ کے قتل سے 11 روز قبل وہ شدید زخمی تھے، جس کی بناء پر کسی بھی قسم کی منصوبہ بندی یا ہدایت دینا ممکن ہی نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیے بھارت کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک کا قریبی ساتھیوں اور کشمیری عوام کے نام خط، کیا پیغام دیا؟

انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں اجیت دوول، برجیش مشرا اور آر کے مشرا جیسے بھارتی حکام نے خود ان سے پاک بھارت تعلقات کی استواری کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی، مگر بعد میں بھارتی ایجنسیوں نے پاکستان سے اسی رابطہ کاری کو ان کے خلاف بطورِ ثبوت استعمال کیا۔

سیاسی انتقام اور الیکشن مہم میں استعمال

یاسین ملک کا کہنا تھا کہ 2019 اور 2024 کے بھارتی عام انتخابات میں مودی حکومت نے ان کا نام، تصویر اور عدالتی کارروائیوں کو پاکستان مخالف سیاسی بیانیہ بنانے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔

اہلیہ اور بیٹی کے نام جذباتی پیغام

حلف نامے میں یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو طویل قید اور سزائے موت کے خدشات کی پریشان کن زندگی سے آزاد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مشعال ملک کی بہادری اور قربانی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اپنی رفاقت سے آزاد کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی بیٹی کو ہدایت کی کہ وہ اپنی دادی کا خیال رکھے اور ان کا غم ہلکا کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز اور حق سچ عدالت کے سامنے رکھ چکے ہیں اور اب اپنا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے مودی حکومت کی انتقامی کارروائی، یاسین ملک کو 35 سال پرانے کیس میں مرکزی ملزم قرار دیدیا

سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ردِعمل

دوسری جانب سیاسی و بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ یاسین ملک کا ناانصافی پر مبنی ٹرائل مودی حکومت کی جانب سے ایک بااثر اور معتبر کشمیری آواز کو دبانے کی ناکام کوشش ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارتی ریاست کشمیری حریت پسندوں کی آواز کو تو وقتی طور پر خاموش کر سکتی ہے مگر آزادی کے جذبے اور نظریے کو ختم نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ یاسین ملک سمیت تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp