دریاؤں کا معاہدہ، پانی کی سیاست اور ہیگ کا فیصلہ

جمعرات 3 ستمبر 2026
author image

کامران ساقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دریا صرف پانی کا بہاؤ نہیں ہوتے۔ پاکستان اور بھارت جیسے دو ملکوں کے لیے یہ معیشت، زراعت، توانائی، خوراک اور قومی سلامتی کا سوال بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری تنازع اب ایک مرتبہ پھر عالمی قانونی فورم تک پہنچ گیا ہے۔

 31اگست 2026 کو دی ہیگ میں قائم کورٹ آف آربیٹریشن نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ عدالت نے اس کے ساتھ دریائے چناب پر زیر تعمیر رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے بعض تعمیراتی کاموں پر عبوری پابندیاں بھی عائد کیں۔

تاہم اس فیصلے کو یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ عدالت نے بھارت کے تمام ہائیڈرو منصوبوں پر کام روکنے کا حکم دیا ہے۔ پابندی خاص طور پر رتلے منصوبے کے ڈیم وال اور پاور انٹیک اسٹرکچر پر مخصوص سطح سے اوپر کنکریٹ ڈالنے سے متعلق ہے، اور یہ پابندی عالمی بینک کے مقرر کردہ نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے بعد 90 دن تک برقرار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ماہر کا فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے۔

مگر سندھ طاس معاہدہ آخر ہے کیا؟

اس تنازع کو سمجھنے کے لیے 1960 میں واپس جانا ہوگا۔

1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد دریائے سندھ کا نظام دو نئے ملکوں، پاکستان اور بھارت، کے درمیان تقسیم ہوگیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ دریاؤں کے بالائی حصے کا بڑا حصہ بھارت میں جبکہ ان کا پانی پاکستان کے زرعی علاقوں تک پہنچتا تھا۔ تقسیم کے بعد پانی کے استعمال پر اختلافات پیدا ہوئے اور بالآخر یہ تنازع عالمی بینک کی ثالثی تک پہنچا۔

تقریباً نو سال کی بات چیت کے بعد 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں پاکستان کے صدر ایوب خان، بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو اور عالمی بینک کے نمائندے ولیم ایلف نے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے۔ عالمی بینک کے مطابق اس مذاکراتی عمل کا آغاز اس کے اس وقت کے صدر یوجین بلیک کی کوششوں سے ہوا تھا۔

معاہدہ بنیادی طور پر دریائے سندھ کے چھ بڑے دریاؤں کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔

مشرقی دریا   راوی، بیاس اور ستلج  بھارت کے لیے مختص کیے گئے، جبکہ مغربی دریا   سندھ، جہلم اور چناب  پاکستان کے لیے مختص ہوئے۔ تاہم یہ تقسیم مکمل طور پر مطلق نہیں تھی۔ بھارت کو مغربی دریاؤں پر مخصوص شرائط کے تحت پانی کے محدود استعمال، بشمول بعض ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تعمیرکی اجازت دی گئی۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں آج کا اصل تنازع پیدا ہوتا ہے۔

بھارت کا مؤقف ہے کہ معاہدہ اسے مغربی دریاؤں پر رن آف دی ریور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ پاکستان کا اعتراض یہ ہے کہ ایسے منصوبوں کے ڈیزائن، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر معاہدے نے واضح پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

چھ دہائیاں، جنگیں اور معاہدہ قائم رہا

سندھ طاس معاہدے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965، 1971 اور 1999 سمیت کئی بڑے فوجی تنازعات اور شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود یہ معاہدہ قائم رہا۔ عالمی بینک اسے دنیا کے نسبتاً کامیاب بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کرتا ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور تعاون کے لیے پرمننٹ انڈس کمیشن بھی قائم کی گئی۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں ڈیموں اور ہائیڈرو پاور منصوبوں نے اس معاہدے کو بار بار امتحان میں ڈالا۔

رتلے اور کشن گنگا تنازع کیوں اہم ہے؟

موجودہ قانونی تنازع بنیادی طور پر دو بھارتی منصوبوں سے جڑا ہے۔ کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ۔

کشن گنگا منصوبہ دریائے جہلم کے نظام سے متعلق ہے جبکہ رتلے دریائے چناب پر واقع ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان منصوبوں کے بعض ڈیزائن عناصر بھارت کو پانی کے بہاؤ پر ایسی صلاحیت دے سکتے ہیں جو سندھ طاس معاہدے کی روح اور مخصوص تکنیکی شرائط سے متصادم ہے۔

2016 میں پاکستان نے ان معاملات پر کورٹ آف آربیٹریشن کے قیام کی درخواست کی جبکہ بھارت نے نیوٹرل ایکسپرٹ کے ذریعے تکنیکی اختلافات حل کرنے کا مؤقف اختیار کیا۔ عالمی بینک نے دونوں درخواستوں پر کارروائی شروع کی اور پھر دونوں ملکوں کو باہمی حل تلاش کرنے کا وقت دینے کے لیے عمل روک دیا۔ پانچ سال کی کوششوں کے بعد 2022 میں دونوں طریقہ کار دوبارہ شروع کیے گئے۔ یہی دو متوازی قانونی راستے آج کے تنازع کی پیچیدگی کی بڑی وجہ ہیں۔

2025 میں نیا بحران

اپریل 2025 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پہلگام حملے  کا  بھارت نے خود  ڈرامہ رچایہ اور اسکے بعد بھارت نے اعلان کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو “abeyance” یعنی عملاً التوا میں رکھ رہا ہے۔ بھارت نے اس اقدام کو سکیورٹی حالات سے جوڑا جبکہ پاکستان نے اس مؤقف کو مسترد کیا۔

31 اگست 2026 کے فیصلے میں ہیگ کی عدالت نے بھارت کے اس اقدام کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ معاہدے میں کسی ایک فریق کو یکطرفہ طور پر اسے معطل یا ختم کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ عدالت کے مطابق معاہدے میں تبدیلی یا خاتمہ دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔

عدالت نے بھارت کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف جوازوں، جن میں سلامتی، حالات میں تبدیلی، خودمختاری، آبادی، توانائی کی ضرورت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل شامل تھے، کو معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے لیے کافی نہیں سمجھا۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

اس تنازع کی ایک اہم جہت یہ ہے کہ معاملہ صرف سیاست نہیں بلکہ انتہائی پیچیدہ انجینئرنگ اور آبی قانون سے بھی متعلق ہے۔

بھارتی آبی امور کے سابق کمشنر پی کے سکسینہ نے پہلے نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائی کے تناظر میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ رتلے اور کشن گنگا کے منصوبوں کے بعض اختلافات بنیادی طور پر تکنیکی نوعیت کے ہیں اور نیوٹرل ایکسپرٹ کو ان پر فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے Annexure D میں ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن سے متعلق مخصوص تکنیکی شرائط موجود ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ تکنیکی ڈیزائن کے یہ معاملات محض انجینئرنگ کے سوالات نہیں بلکہ اس بات سے براہ راست جڑے ہیں کہ بھارت مغربی دریاؤں پر پانی کو کتنی حد تک کنٹرول یا ذخیرہ کرسکتا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے مئی 2026 میں کورٹ آف آربیٹریشن کے ایک سپلیمنٹل ایوارڈ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدہ مغربی دریاؤں پر بھارت کی واٹر کنٹرول کیپیبلٹی پر سبسٹینٹو لِمٹس عائد کرتا ہے۔ پاکستان نے خاص طور پر رن آف دی ریور منصوبوں میں pondage یعنی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے بارے میں عدالت کی تشریحات کو اہم قرار دیا۔

یہاں بنیادی تکنیکی سوال یہ ہے کہ اگر کوئی منصوبہ بظاہر رن آف دی ریور ہے تو اس میں کتنی مقدار میں پانی عارضی طور پر ذخیرہ کیا جاسکتا ہے؟ پاکستان کو خدشہ ہے کہ زیادہ pondage یا مخصوص ڈیزائن بھارت کو پانی کے بہاؤ کو اپنی ضرورت کے مطابق زیادہ دیر تک متاثر کرنے کی صلاحیت دے سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے اس فیصلے کی اہمیت کیا ہے؟

پاکستان کی معیشت اور زراعت کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر غیر معمولی حد تک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ صرف ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ خوراک، زراعت اور پانی کی سلامتی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

تازہ فیصلے کا سب سے اہم پہلو شاید رتلے منصوبے پر عائد مخصوص عبوری پابندی سے بھی زیادہ یہ قانونی اصول ہے کہ ایک فریق اپنی مرضی سے معاہدے کو “abeyance” میں نہیں ڈال سکتا۔

لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پاکستان کو پانی کے مسئلے پر مستقل اطمینان حاصل ہوگیا ہے۔

دوسری طرف نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائی بھی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ رتلے اور کشن گنگا کے تکنیکی سوالات پر حتمی فیصلہ آنے کے بعد یہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگا۔

اصل امتحان ابھی باقی ہے

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں اس وقت وجود میں آیا جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات آج کے مقابلے میں کہیں کم پیچیدہ تھے۔ آج آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، موسمیاتی تبدیلی نے ہمالیائی گلیشیئرز اور دریائی بہاؤ کو متاثر کیا ہے، توانائی کی ضروریات بڑھ چکی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد تقریباً ختم ہوچکا ہے۔

اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ہیگ کی عدالت نے کس کے حق میں فیصلہ دیا۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور بھارت ایک ایسے آبی نظام کو جس پر کروڑوں انسانوں کی زندگی منحصر ہے، سیاسی کشیدگی سے الگ رکھ سکیں گے؟

1960 کا معاہدہ اس لیے غیر معمولی تھا کہ اس نے دو دشمن ممالک کو یہ سکھایا کہ پانی کا مسئلہ جنگ کے بجائے قانون، مذاکرات اور تکنیکی اصولوں کے ذریعے بھی حل کیا جاسکتا ہے۔

31 اگست 2026 کا ہیگ فیصلہ اسی اصول کی ایک نئی یاد دہانی ہے۔ مگر اس فیصلے کی حقیقی کامیابی تب ہوگی جب دونوں ممالک دوبارہ پرمننٹ انڈس کمیشن ، تکنیکی مذاکرات اور معاہدے کے ڈسپیوٹ ریزولوشن میکینزمز کی طرف واپس آئیں۔

کیونکہ دریاؤں کا پانی سرحدوں پر نہیں رکتا اور جب پانی کو سیاست کا ہتھیار بنایا جائے تو اس کے اثرات صرف اسلام آباد اور نئی دہلی تک محدود نہیں رہتے۔ وہ دریائے سندھ کے کنارے آباد کسان، شہر، صنعتیں، خوراک کی قیمتیں اور آنے والی نسلیں بھی محسوس کرتی ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp