پیٹرولیم لیوی، روزافزوں مہنگائی اور بھاری ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی کی کال پر ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مکمل اور جزوی شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے، جس کے باعث بیشتر تجارتی مراکز اور منڈیاں بند ہیں۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی کال پر پیٹرولیم لیوی، روزافزوں مہنگائی اور بھاری ٹیکسوں کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ کراچی سے آنے والی خبروں کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی تمام مارکیٹیں بند ہیں جبکہ لاہور سمیت پنجاب بھر کے بڑے چھوٹے شہروں میں جزوی ہڑتال کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا سخت موقف اور شاہ خرچیوں پر تنقید
لاہور میں جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی رویے کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ایک طرف مذاکرات کا ڈراما رچاتی ہے اور دوسری جانب زبردستی پر اتری ہوئی ہے۔
پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج،اسلام آباد میں تاجروں نے دوکانیں بند کردیں،شٹر ڈاون احتجاج جاری pic.twitter.com/BXf02dDHoJ
— Fahim Akhtar Malik (@writetofahim) September 3, 2026
انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام معاشی بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا ہے جبکہ اپنے وزراء اور سرکاری افسران کی شاہ خرچیاں اور مراعات برقرار رکھی ہوئی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکمران اور بیوروکریسی بڑی گاڑیاں، مفت بجلی اور پیٹرول کا استعمال بند کیوں نہیں کرتے؟ امیر جماعت نے واضح کیا کہ آج کی ملک گیر ہڑتال کے بعد آئندہ کے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
حکومتی وفد اور جماعت اسلامی میں آج مذاکرات
دوسری جانب پیدا شدہ تناؤ کو کم کرنے اور دھرنا ختم کرانے کے لیے حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد آج منصورہ میں جماعت اسلامی کے قائدین سے اہم مذاکرات کرے گا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومتی کمیٹی دوپہر 3 بجے منصورہ پہنچے گی اور جماعت اسلامی کے مطالبات پر سیر حاصل گفتگو کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نیک نیتی کے ساتھ مسائل کا حل نکالنے جا رہی ہے، کیونکہ ملک اس وقت دھرنوں اور جلوسوں کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اسے امن و معاشی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔
پولیس تشدد اور کارکنان کی حراست پر جماعت اسلامی کا شدید ردِعمل
پیٹرولیم لیوی، ظالمانہ ٹیکسوں اور ہوش ربا مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی کال پر آج ملک بھر میں کہیں مکمل اور کہیں جزوی شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ اس موقع پر مختلف شہروں میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب پولیس اور جماعت اسلامی کے کارکنان کے درمیان تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
جماعت اسلامی پاکستان کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ تازہ ترین بیان میں کراچی، لاڑکانہ اور لاہور سمیت دیگر شہروں سے پارٹی کارکنان کی زبردستی گرفتاریوں اور پولیس تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ عوام نے ہڑتال کی کال پر جماعت اسلامی کا بھرپور ساتھ دے کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔
ترجمان جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ گزشتہ 19 دنوں سے ملک بھر میں جماعت اسلامی کے دھرنے اور مظاہرے مکمل طور پر پرامن رہے ہیں اور اس دوران ‘ایک گملا تک نہیں ٹوٹا’۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے پرامن احتجاج کے باوجود حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے تشدد اور گرفتاریوں کا راستہ کیوں اپنایا جا رہا ہے؟
مذاکرات کے بے معنی ہونے کا خدشہ
لاہور میں ہونے والے ممکنہ حکومتی مذاکرات کے حوالے سے جماعت اسلامی کے ترجمان نے سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کا ڈراما اور دوسری طرف ملک بھر میں کارکنان کی گرفتاریاں کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔ ان اقدامات سے دونوں فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ ترجمان جماعت اسلامی نے مطالبات کی منظوری کے ساتھ ساتھ تمام گرفتار کارکنوں کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔













