نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے بچوں میں خود سے سوچنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو پروان چڑھانے کے لیے ایلیمنٹری اور مڈل اسکولوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر 1 سالہ پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکا کے سب سے بڑے اسکول ڈسٹرکٹ کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام سے اٹھویں جماعت تک کے تقریباً 600,000 طلبہ متاثر ہوں گے۔
میئر کا کہنا ہے کہ بچوں کی تعلیمی اور ذاتی نمو کے لیے تکنیکی ٹولز کی جگہ اساتذہ اور انسانی تعلق سب سے اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اے آئی کا استعمال کیوں کیا؟ نیویارک ٹائمز نے صحافی کو برخاست کردیا
میئر ظہران ممدانی نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اس نئے اقدام کے تحت نیویارک کے پرائمری اور مڈل سکولوں کے کلاس رومز میں فی الوقت استعمال ہونے والے تقریباً 40 تعلیمی اے آئی ٹولز کو فوری طور پر روک دیا جائے گا۔
تاہم یہ پابندی صرف 8 ویں جماعت تک کے طلبہ پر لاگو ہوگی جبکہ ہائی اسکول کے طلبہ مخصوص حالات میں اے آئی کا استعمال جاری رکھ سکیں گے۔
مزید یہ کہ اساتذہ کو اسباق کی منصوبہ بندی اور دیگر انتظامی امور جیسے شیڈولنگ کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کرنے کی اجازت رہے گی۔
بچوں کو خود سوچنا اور سیکھنا ہوگا
1892 کے بعد نیویارک شہر کے سب سے کم عمر میئر بننے والے ظہران ممدانی کا کہنا تھا کہ ‘بچوں کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے اساتذہ اور انسانی تعلق کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہیں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ مل کر مہارتیں حاصل کرنے، اساتذہ کے ساتھ رشتے استوار کرنے اور مشکل مسائل پر خود سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے’۔
مزید پڑھیں:مسئلہ گروک، سیاسی شعور یا تجزیے کے لیے کیا اے آئی کا استعمال ٹھیک ہے؟
دوسری جانب، اے آئی تیار کرنے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں گوگل، اینتھروپک اور مائیکروسافٹ نے اس فیصلے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
امریکی تعلیمی اداروں پر اثرات
نیویارک سٹی پبلک اسکولز نے اس سے قبل 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے متعارف ہوتے ہی اس پر عارضی پابندی عائد کی تھی۔
بعد میں اس پابندی کو ختم کر کے مائیکروسافٹ کی معاونت سے تیار کردہ ایک خصوصی اے آئی ٹیچنگ اسسٹنٹ کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا تھا۔
نیویارک امریکا کا سب سے بڑا تعلیمی ڈسٹرکٹ ہے اور اس فیصلے کو اب تک کا سب سے سخت اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد لاس اینجلس سمیت امریکا کے دیگر بڑے تعلیمی ڈسٹرکٹس بھی اپنے اسکولوں میں اے آئی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔













