یورپی خلائی ایجنسی اور جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی کا مشترکہ خلائی مشن ’بیپی کولمبو‘ عطارد کے قریب اپنے سب سے اہم اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوگیا، خلائی جہاز کے سفر میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ’مرکری ٹرانسفر ماڈیول‘ کی دونوں سائنسی خلائی مدار گردوں سے علیحدگی کے بعد عطارد کے گرد مدار میں داخل ہونے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین 2030 تک سیارچے سے خلائی جہاز ٹکرانے کا منصوبہ کیوں بنا رہا ہے؟
جمعرات کو علیحدگی کا عمل مکمل کیا گیا، جس کے بعد یورپی خلائی ایجنسی کا ’مرکری پلینیٹری آربیٹر‘ اور جاپانی خلائی ایجنسی کا ’مرکری میگنیٹوسفیئرک آربیٹر‘، جسے ’میو‘ کا نام دیا گیا ہے، فی الحال ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں مدار گرد نومبر میں عطارد کی کششِ ثقل میں داخل ہونے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
بیپی کولمبو کو اکتوبر 2018 میں روانہ کیا گیا تھا اور یہ اب تک 10 ارب کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کرچکا ہے۔ عطارد تک پہنچنے کے لیے خلائی مشن نے مختلف سیاروں کے قریب سے 9 مرتبہ گزر کر ان کی کششِ ثقل سے فائدہ اٹھایا تاکہ اپنی رفتار کم کرتے ہوئے سورج کے قریب موجود عطارد تک پہنچ سکے۔
عطارد زمین سے کہیں زیادہ سورج کے قریب ہے، جس کے باعث وہاں خلائی مشن کو انتہائی سخت حالات کا سامنا ہے۔ جمعرات کو عطارد زمین سے تقریباً 20 کروڑ کلومیٹر جبکہ سورج سے تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ کلومیٹر دور تھا۔ خلائی جہاز اور زمین کے درمیان سگنل پہنچنے میں تقریباً 30 منٹ لگتے ہیں، اسی وجہ سے مشن کے بعض اہم مراحل کو خلائی جہاز کو خودکار انداز میں انجام دینا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا خلائی جہاز خلابازوں کے لیے سائنسی آلات لے کر عالمی خلائی اسٹیشن روانہ
یورپی خلائی ایجنسی کے اندرونی شمسی نظام کے مشن آپریشنز کے سربراہ اِگناسیو ٹانکو نے اس مرحلے کو نئے خلائی جہاز کی روانگی کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرق صرف یہ ہے کہ یہ خلائی جہاز کسی دوسرے سیارے کے قریب موجود ہے۔
مشن کے مطابق دونوں مدار گرد 21 نومبر کو عطارد کی کششِ ثقل میں داخل ہوں گے، جس کے بعد 9 یا 10 دسمبر کو ان کی ایک دوسرے سے علیحدگی متوقع ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی کا مدار گرد 16 دسمبر کو اپنے سائنسی مدار میں داخل ہوگا جبکہ جاپانی مدار گرد ’میو‘ مارچ میں اپنے سائنسی مدار میں پہنچے گا۔
سائنسی مشاہدات کے دوران یورپی مدار گرد عطارد کی سطح سے تقریباً 480 کلومیٹر کی بلندی سے سیارے کا جائزہ لے گا، جبکہ ’میو‘ زیادہ طویل مدار میں رہتے ہوئے 11 ہزار کلومیٹر تک کی بلندی سے عطارد کے مقناطیسی میدان کا مطالعہ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
عطارد کے قریب اس نوعیت کی مہم اس سے قبل صرف ناسا کے دو خلائی مشن انجام دے چکے ہیں۔ ’میرین 10‘ نے 1974 میں جبکہ ’میسنجر‘ نے 2011 میں عطارد کے قریب پہنچ کر مشاہدات کیے تھے۔














