آزاد کشمیر کے علاقے منگ میں تحریکِ آزادی کے ہیرو کمانڈر فاروق کی دستار سردار عمر نذیر کو پیش کرنے پر شدید سماجی اور سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
عوامی حلقوں نے اسے شہید کی جدوجہد کی توہین قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف بدامنی پھیلانے والا کوئی بھی شخص کشمیر کے اس عظیم سپوت کا جانشین ہرگز نہیں بن سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟
منگ کے مقامی افراد کی جانب سے سردار عمر نذیر کشمیری کو کمانڈر فاروق کی دستار پہنائے جانے کے واقعے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ناقدین اور عوامی حلقوں کی جانب سے جاری ہونے والے سخت ردعمل میں اس عمل کو انتہائی افسوس ناک اور شرمناک قرار دیا گیا ہے۔
کمانڈر فاروق ایک عظیم و نیک جدوجہد کے سپاہی تھے۔ ان پر نہ آزاد ریاست میں کوئی مقدمہ رہا نہ پاکستان میں انکی دستار ایسے شخص کو دینا جو کل تک ایک کاروباری طبقے کا نمائدہ تھاجس پرُدرجنوں مقدمات ہیں یقیناً کسی دباو کا نتیجہ ہے۔ https://t.co/Ye7mTv6xde
— Faisal Abbasi (@Faisalabassi) September 3, 2026
بیان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف کمانڈر فاروق کی یاد اور ان کے خاندان کے جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہے، بلکہ یہ ان کی زندگی بھر کی جدوجہد کی صریحاً توہین ہے۔
اس معاملے پر تنقید کرنے والوں نے دونوں شخصیات کے کردار کا واضح موازنہ کیا ہے۔ ایک طرف کمانڈر فاروق ہیں جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے بے پناہ اور لازوال قربانیاں دیں، تو دوسری جانب عمر نذیر پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ ‘شیطانی ایکشن کمیٹی’ کے پلیٹ فارم سے ملک کے اندر بدامنی، نفرت اور ریاستی اداروں کے خلاف زہر پھیلایا۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ عمر نذیر جیسا قانون شکن اور مفرور شخص کمانڈر فاروق جیسی باوقار شخصیت کی نمائندگی کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔
کشمیری ثقافت میں ‘دستار’ محض ایک کپڑا نہیں بلکہ عزت، روایت، قربانی اور کشمیری وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
عوامی حلقوں نے متنبہ کیا ہے کہ اس مقدس علامت کو کسی متنازع شخص کا سیاسی قد بڑھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
سردار عمر نذیر کو کمانڈر فاروق کا جانشین ثابت کرنے کی کوشش کو تاریخی حقائق مسخ کرنے، عوامی جذبات کا استحصال کرنے اور ایک عظیم رہنما کی میراث کو داغدار کرنے کی مذموم سازش قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ کمانڈر فاروق کا شمار تحریکِ آزادیِ کشمیر کے ان صفِ اول کے رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کی ہے۔














