کینیا کے صدر ولیم روٹو نے بھارتی کمپنی ٹاٹا کیمیکلز کو ملک میں اپنی سرگرمیاں بند کرنے اور آپریشنز چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ تنازع کا مرکز کینیا کے کجیادو کاؤنٹی میں واقع میگادی کا سوڈا ایش منصوبہ ہے، جہاں حکومت کا مؤقف ہے کہ کمپنی کئی دہائیوں سے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھا رہی ہے لیکن مقامی معیشت، روزگار اور صنعتی ترقی کے لیے مطلوبہ کردار ادا نہیں کر رہی۔
روٹو نے کجیادو کے دورے کے دوران ٹاٹا کیمیکلز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کے پاس 100 سال کا معاہدہ ہے، لیکن اس نے علاقے میں فیکٹری قائم نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیا محض قدرتی وسائل نکال کر برآمد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری چاہتا ہے۔ صدر نے کہا کہ حکومت ٹاٹا کی جگہ 2 نئی کمپنیوں کو لانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جن میں سے ایک کجیادو میں شیشے کی بڑی صنعت قائم کرے گی جبکہ دوسری کیمیکلز تیار کرے گی۔
Kenyan President William Ruto ordered the ousting of Tata Chemicals and is looking for fresh investors to take over its century-old mining rights for minerals that are processed into soda ash https://t.co/r1zR4CRrK7
— Bloomberg (@business) September 3, 2026
یہ تنازع جولائی میں اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب کینیا کے وزیر برائے کان کنی نے ٹاٹا کیمیکلز میگادی کو کان کنی کی سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم دیا۔ حکومت نے رائلٹی، برآمدات کی رپورٹنگ، مقامی افراد کے روزگار، مقامی سپلائرز سے خریداری، ماحولیاتی ضوابط اور کمیونٹی ترقی سمیت متعدد معاملات میں وضاحت طلب کی تھی۔

تاہم ٹاٹا کیمیکلز نے حکومتی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے مطلوبہ تمام معلومات اور دستاویزات حکومت کو فراہم کردی ہیں اور وہ متعلقہ قوانین کی پابندی کر رہی ہے۔ کمپنی نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ قانونی اور انتظامی طریقہ کار کے تحت تعمیری مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی ادارہ صحت نے ایک اور بھارتی سیرپ کو غیر معیاری قرار دے دیا
میگادی میں سوڈا ایش کی پیداوار 1911 میں شروع ہوئی تھی، جبکہ ٹاٹا کیمیکلز نے یہ کاروبار 2005 میں حاصل کیا۔ سوڈا ایش شیشہ، ڈٹرجنٹس اور دیگر صنعتی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والا اہم کیمیکل ہے۔














