افغانستان جانے سے گریز کریں، کینیڈا نے اپنے شہریوں کو سخت سفری انتباہ جاری کردیا

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کینیڈا نے اپنے شہریوں کو افغانستان کا سفر نہ کرنے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی غیر یقینی اور خطرناک ہے، جبکہ غیر ملکیوں اور مغربی ممالک سے روابط رکھنے والے افراد کو اغوا، تشدد اور طالبان حکام کی جانب سے من مانی گرفتاری کا شدید خطرہ لاحق ہے۔

کینیڈین حکومت کی تازہ سفری ایڈوائزری کے مطابق افغانستان میں موجود کینیڈین شہری اگر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ضرورت محسوس کریں تو انتہائی احتیاط سے کام لیں اور اپنی ذاتی سکیورٹی سے متعلق منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لیں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی شہریوں، خصوصاً مغربی ممالک سے وابستہ افراد، کو دہشتگرد گروہوں کی جانب سے اغوا اور تشدد کا خطرہ ہے۔ طالبان حکام بھی انہیں طویل عرصے تک من مانی طور پر حراست میں لے سکتے ہیں۔ یہ خطرہ ان افراد کے لیے مزید بڑھ جاتا ہے جن کے سابق افغان حکومت سے روابط رہے ہوں یا جن پر طالبان کے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جائے۔

کینیڈا نے خبردار کیا کہ طالبان حکام غیر ملکی شہریوں، حتیٰ کہ افغان اور کسی دوسرے ملک کی دوہری شہریت رکھنے والوں پر بھی جاسوسی کا الزام عائد کرسکتے ہیں۔ امدادی کارکنوں، صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کی سرگرمیوں اور نقل و حرکت پر بھی نظر رکھی جاسکتی ہے۔ مشتبہ افراد کے پاسپورٹ ضبط کیے جانے اور انہیں طویل عرصے تک بغیر کسی قانونی کارروائی کے حراست میں رکھے جانے کا خدشہ ہے۔

کینیڈین حکومت کے مطابق ماضی میں اس کے شہری افغانستان میں گرفتار بھی کیے جاچکے ہیں اور بعض مواقع پر انہیں کینیڈین قونصلر حکام، اہل خانہ یا وکلا تک رسائی بھی نہیں دی گئی۔

ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ کابل سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کا خطرہ بدستور موجود ہے اور کسی بھی وقت حملہ ہوسکتا ہے۔ دہشتگرد گروہ غیر ملکیوں، سیکیورٹی اہلکاروں، دفاعی اداروں کے ملازمین، این جی او کارکنوں، صحافیوں، طبی عملے اور عام شہریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:قندھار میں طالبان انٹیلی جنس کے نائب سربراہ ملّا تاج میر جواد ہلاک

کینیڈا نے تاوان کے لیے اغوا کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں سے بھی خبردار کیا ہے جو مغویوں کو دہشتگرد تنظیموں کے حوالے کرسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں متاثرہ افراد برسوں تک قید رہ سکتے ہیں۔ جعلی چیک پوسٹیں اور ناکے قائم کرکے ڈکیتی، اغوا اور دیگر پرتشدد کارروائیاں کیے جانے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

کینیڈین حکومت نے افغانستان کے سیاحتی اور دور دراز علاقوں کا سفر بھی نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ معروف کمپنیوں کے زیر اہتمام منظم سیاحتی دورے بھی خطرات کو ختم نہیں کرتے۔

خواتین کے لیے خصوصی خطرات

کینیڈا کی سفری ایڈوائزری میں خواتین کے لیے الگ سے خبردار کیا گیا ہے کہ انہیں ہراسانی اور بدسلوکی کے خصوصی خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے، جن میں طالبان کی جانب سے مبینہ بدسلوکی بھی شامل ہے۔

کینیڈا نے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں اس کا سفارتخانہ معطل ہے، جس کے باعث افغانستان میں موجود کینیڈین شہریوں کو قونصلر خدمات اور دیگر ضروری معاونت فراہم کرنے کی اوٹاوا کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp