ترکیہ میں افغان غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن، 8 ماہ میں 25 ہزار سے زائد گرفتار

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کے مختلف ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آنے لگی ہے، جبکہ ترکیہ میں بھی غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران رواں سال کے پہلے 8 ماہ میں 25 ہزار سے زائد افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکیہ کے سرکاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے اگست 2026 کے دوران ترک پولیس اور امیگریشن حکام نے تقریباً 95 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن کو حراست میں لیا۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد میں یعنی 25,314 افغان شہریوں کی بتائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مقیم 5 ہزار سے زیادہ افغان قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار، دہشتگردی اور جنسی جرائم میں ملوث افرادکی ملک بدری کا فیصلہ

اعداد و شمار کے مطابق افغان شہریوں کے بعد حراست میں لیے جانے والے غیر قانونی تارکینِ وطن میں شام، ازبکستان، ترکمانستان، ایران، مراکش، عراق، مصر، سوڈان اور یمن کے شہری شامل ہیں۔

ترکیہ کے حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد ملک میں درست رہائشی اجازت نامے یا قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم پائے گئے۔

حکام کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کی روک تھام، سرحدی نگرانی اور ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائیوں میں مزید سختی کی جا رہی ہے۔

افغانستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث لاکھوں افغان شہری مختلف ادوار میں بیرونِ ملک منتقل ہوئے ہیں۔

ترکیہ، جو یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت کے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے، طویل عرصے سے افغانستان سمیت مختلف ممالک کے تارکینِ وطن کی آمد کا سامنا کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: افغانوں کی جرمنی میں جرائم پیشہ سرگرمیاں، ملک بدری کے اقدام میں تیزی

اقوام متحدہ کے مطابق 2026 کے پہلے 5 ماہ کے دوران ترکیہ سے 13 ہزار سے زائد افغان تارکینِ وطن کو ملک بدر کیا گیا۔

حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکیہ میں غیر قانونی ہجرت کے خلاف کارروائیاں مزید وسیع ہو رہی ہیں اور افغان شہری ان کارروائیوں میں نمایاں تعداد میں شامل ہیں۔

غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد میزبان ممالک کے لیے امیگریشن، سرحدی نگرانی اور انتظامی امور کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی ایک اہم چیلنج بن چکی ہے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp