نیپال کا موسمیاتی انصاف کا مطالبہ، ہمالیائی تباہی کے بعد امیر ممالک سے ذمہ داری قبول کرنے پر زور

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیپال نے ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلی سے جڑی تباہ کاریوں میں اضافے کے بعد امیر ممالک سے ذمہ داری قبول کرنے اور متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے عالمی تعاون بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 26 اگست کو چین اور نیپال کی سرحد پر گلیشیئر کے ٹوٹنے سے آنے والے تباہ کن سیلاب اور ملبے کے ریلے نے نیپال کے ضلع راسوا سمیت کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس سانحے میں نیپال اور چین کے تبت خطے میں 1200 سے زیادہ افراد ہلاک اور 4750 سے زائد لاپتا ہوئے، جبکہ سڑکوں، پلوں، گھروں اور پن بجلی منصوبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ملک نے عالمی حدت میں اضافے کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت کم حصہ ڈالا ہے، اس کے باوجود اسے موسمیاتی تبدیلی کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

نیپال کے وزیر خارجہ ششیر خانال نے کہا کہ عالمی برادری کی مدد کو محض امداد یا خیرات کے طور پر نہیں بلکہ موسمیاتی انصاف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطہ دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے، جس سے گلیشیئر پگھلنے اور اچانک قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:برادر ملک نیپال کی مدد: پاکستان آج 80 ٹن سے زائد کا امدادی سامان روانہ کرے گا

نیپال نے مستقبل کی تباہ کاریوں سے بروقت خبردار کرنے کے لیے مضبوط وارننگ سسٹم، ڈیٹا شیئرنگ اور طویل مدتی عالمی تعاون کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp