نیپال نے ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلی سے جڑی تباہ کاریوں میں اضافے کے بعد امیر ممالک سے ذمہ داری قبول کرنے اور متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے عالمی تعاون بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 26 اگست کو چین اور نیپال کی سرحد پر گلیشیئر کے ٹوٹنے سے آنے والے تباہ کن سیلاب اور ملبے کے ریلے نے نیپال کے ضلع راسوا سمیت کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس سانحے میں نیپال اور چین کے تبت خطے میں 1200 سے زیادہ افراد ہلاک اور 4750 سے زائد لاپتا ہوئے، جبکہ سڑکوں، پلوں، گھروں اور پن بجلی منصوبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
Terrifying footage shows a flash flood sweeping through the Nepal–Tibet border, trapping people on rooftops and balconies. At least 469 have been killed, with hundreds still missing. pic.twitter.com/xRgRWmwut7
— Weather Monitor (@WeatherMonitors) August 28, 2026
نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ملک نے عالمی حدت میں اضافے کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت کم حصہ ڈالا ہے، اس کے باوجود اسے موسمیاتی تبدیلی کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
نیپال کے وزیر خارجہ ششیر خانال نے کہا کہ عالمی برادری کی مدد کو محض امداد یا خیرات کے طور پر نہیں بلکہ موسمیاتی انصاف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطہ دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے، جس سے گلیشیئر پگھلنے اور اچانک قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برادر ملک نیپال کی مدد: پاکستان آج 80 ٹن سے زائد کا امدادی سامان روانہ کرے گا
نیپال نے مستقبل کی تباہ کاریوں سے بروقت خبردار کرنے کے لیے مضبوط وارننگ سسٹم، ڈیٹا شیئرنگ اور طویل مدتی عالمی تعاون کا مطالبہ بھی کیا ہے۔














