پاکستانی فوجی شہید کرنیکا اعتراف، اکبر بگٹی کے کردار پر پھر بحث چھڑ گئی

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اکبر بگٹی کے کردار، ریاست کے ساتھ ان کے مسلح تصادم اور انہیں ’شہید‘ قرار دیے جانے کے بیانیے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

انوار الحق کاکڑ نے گفتگو کے دوران اکبر بگٹی کے بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا، جس میں بگٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ ایف سی کے ساتھ ایک جھڑپ میں ان کے 13 افراد مارے گئے جبکہ ان کی جانب سے 35 فوجی ہلاک کیے گئے۔ کاکڑ نے سوال اٹھایا کہ جو شخص جنگ کی کیفیت میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر رہا ہو، اسے محض مزاحمتی رہنما کے طور پر کیسے دیکھا جاسکتا ہے؟

انوار الحق کاکڑ کے مطابق اس بحث کو جذبات کے بجائے پورے پس منظر اور تنازع کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا نواب اکبر بگٹی کا قتل بلوچستان میں شورش کی وجہ بنا؟

کاکڑ نے اکبر بگٹی کے سیاسی اور قبائلی کردار کے دوسرے پہلوؤں کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ناقدین کے مطابق بگٹی ایک طاقتور قبائلی سردار تھے جنہوں نے اختلافِ رائے کو دبانے اور قبائلی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے سخت طرزِ عمل اختیار کیا۔ ان پر مخالف قبائل، خصوصاً کلپر اور مسوری گروہوں کے لوگوں کو بے دخل کرنے، نجی حراستی مراکز رکھنے اور کم عمری میں قتل کا اعتراف کرنے جیسے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

ان کے ناقدین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ بلوچستان کے گیس وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا فائدہ وسیع تر عوام تک پہنچنے کے بجائے محدود اشرافیہ تک کیوں رہا اور مقامی تعلیم و ترقی کے عمل میں کیا کردار ادا کیا گیا۔

انوار الحق کاکڑ کی گفتگو نے اکبر بگٹی کے کردار اور انہیں ’شہید‘ قرار دینے کے معاملے پر جاری بحث کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp