برطانوی حکومت نے امیگریشن قوانین میں متعدد اہم تبدیلیوں کا اعلان کردیا ہے، جن کا آغاز 8 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔ نئی ترامیم میں Erasmus+ پروگرام، جدید غلامی اور گھریلو تشدد کے متاثرین، EU Settlement Scheme اور ہانگ کانگ BN(O) کے زیرِ کفالت افراد سے متعلق اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔
یہ تبدیلیاں 3 ستمبر 2026 کو برطانوی پارلیمنٹ میں Statement of Changes HC 584 کے ذریعے پیش کی گئیں، تاہم تمام ترامیم ایک ہی تاریخ سے نافذ نہیں ہوں گی۔ مذہبی رہنماؤں اور مذہبی کارکنوں سے متعلق تبدیلیاں 29 اکتوبر، طلبہ کی مالی ضروریات سے متعلق نئی شرط 30 نومبر جبکہ EU Settlement Scheme میں بائیومیٹرک ریزیڈنس پرمٹ سے متعلق تبدیلیاں 9 دسمبر 2026 سے نافذ ہوں گی۔
Erasmus+ پروگرام میں شرکت کے لیے آسانیاں
نئی ترامیم کا ایک اہم مقصد 2027 سے برطانیہ کی Erasmus+ پروگرام میں شمولیت کے لیے امیگریشن قواعد کو ہم آہنگ کرنا ہے۔ Erasmus+ پروگرام میں حصہ لینے والے افراد کو برطانیہ کے سرکاری اسکولوں اور اکیڈمیوں میں چھ ماہ تک تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ شرکاء برطانوی اداروں میں تربیت حاصل یا فراہم کرنے، کورسز میں شرکت، 30 دن تک تربیتی پروگرام، جاب شیڈونگ، کھیلوں کے اداروں میں کوچنگ اور تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے۔
شرائط پوری کرنے والے شرکاء ورکشاپس، مباحثوں اور مہارتوں کے مقابلوں میں بھی شرکت کرسکیں گے۔ 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے والدین یا قانونی سرپرست اور متعلقہ تعلیمی ادارے کی اجازت درکار ہوسکتی ہے۔
Student اور Child Student routes میں بھی تبدیلی کی جائے گی تاکہ ایسے Erasmus+ پروگرامز کو شامل کیا جاسکے جو کسی باقاعدہ منظور شدہ تعلیمی قابلیت پر منتج نہیں ہوتے۔ Erasmus+ کو Government Authorised Exchange Scheme میں بھی منظور شدہ پروگرام کے طور پر شامل کیا جائے گا۔
جدید غلامی اور گھریلو تشدد کے متاثرین کے لیے تحفظ
نئے قواعد کے تحت ہوم آفس کی جانب سے جدید غلامی کے متاثرین قرار دیے جانے والے Skilled Workers کو ان کے موجودہ ویزے کی باقی مدت کے دوران کسی بھی آجر کے لیے کام کرنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح Victim of Domestic Abuse route کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ایسے بالغ زیرِ کفالت بچوں کو بھی شامل کیا جائے گا جن کا اسپانسر کے ساتھ تعلق گھریلو تشدد کے باعث ختم ہوگیا ہو۔
EU Settlement Scheme میں اہم تبدیلیاں
نئے قواعد کے تحت بعض ایسے افراد جن کے پاس pre-settled status ہے لیکن وہ اب اسکیم کی اہلیت کی شرائط پوری نہیں کرتے، اس صورت میں بھی اسکیم میں رہ سکیں گے جب ان کا اسٹیٹس ختم کرنا غیر متناسب اقدام تصور ہو۔
31 دسمبر 2020 کے بعد برطانیہ میں قانونی طور پر داخل ہونے والے پہلی مرتبہ شامل ہونے والے اہل خاندانی افراد کے لیے درخواست کی مدت ان کے حالیہ قانونی داخلے کے تین ماہ کے اندر مقرر کی جائے گی۔
EU Settlement Scheme کے تحت شناخت اور قومیت کے ثبوت کے طور پر Biometric Residence Permit (BRP) استعمال کرنے کی سہولت بھی ختم کردی جائے گی۔ حکومت کے مطابق تقریباً تمام BRPs کی میعاد 31 دسمبر 2024 تک ختم ہوچکی تھی۔
EUSS Travel Permit route بھی ختم کیا جائے گا۔ نیا پاسپورٹ حاصل کرنے والے افراد برطانیہ سے باہر رہتے ہوئے Update My Details سروس کے ذریعے اپنا نیا پاسپورٹ اپنے امیگریشن اسٹیٹس سے منسلک کرسکیں گے۔
ہانگ کانگ BN(O) خاندانوں کے لیے بڑی سہولت
ہانگ کانگ British National (Overseas) route کے اہل زیرِ کفالت بچوں کو مستقل رہائش کے لیے اب پانچ سال مسلسل برطانیہ میں قیام مکمل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اگر والدین settlement کی شرائط پوری کرتے ہیں تو اہل بچے بھی ان کے ساتھ ہی مستقل رہائش حاصل کرسکیں گے۔
بین الاقوامی طلبہ کے لیے مالی شرط میں اضافہ
30 نومبر 2026 سے برطانیہ میں بین الاقوامی طلبہ کے لیے مالی اخراجات پوری کرنے کی شرط میں اضافہ ہوگا۔
نئی مالی حد 2026/27 کے تعلیمی سال میں برطانوی طلبہ کے لیے دستیاب maintenance loans کے مطابق مقرر کی جائے گی، جبکہ رہائش کے اخراجات سے متعلق رعایت بھی اپ ڈیٹ ہوگی۔ تاہم حکومتی دستاویز میں نئی رقم کی حتمی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
دیگر اہم تبدیلیاں
نئے امیگریشن قواعد میں مذہبی کارکنوں، Family Returns Process، بائیومیٹرکس، فیس معافی، Long Residence اور Child Relative route سمیت کئی دیگر شعبوں میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر یہ ترامیم امیگریشن نظام کو مختلف پروگرامز اور موجودہ قانونی تقاضوں کے مطابق بنانے کے ساتھ ساتھ مخصوص کمزور طبقات کے لیے تحفظ اور بعض خاندانوں کے لیے امیگریشن کے عمل کو آسان بنائیں گی۔













