نیپال میں تباہ کن سیلاب کے نو روز بعد امدادی کارکنوں نے ہائیڈرو پاور منصوبے کی ایک سرنگ سے دو کارکنوں کو زندہ نکال لیا، جس کے بعد سرنگ میں پھنسے مزید افراد کو بچانے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں کارکنوں کو دریائے تریشولی پر واقع تریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی زیر تعمیر سرنگ سے نکالا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور نیپال کی سرحد پر تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئیں
نیپالی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجا رام بسنیٹ نے پہلے کارکن کے زندہ نکالے جانے کی تصدیق کی، جبکہ نیپالی رکن پارلیمنٹ شری رام نیوپانے نے بعد ازاں دوسرے کارکن کو بھی بچائے جانے کی اطلاع دی۔
حکام کے مطابق دونوں کارکنوں کی حالت مستحکم ہے اور انہیں علاج کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو کے اسپتال منتقل کردیا گیا، جن کی شناخت مکینیکل فورمین اور مکینیکل سپروائزر کے طور پر کی گئی ہے۔
TWO MEN RESCUED ALIVE AFTER 9 DAYS IN NEPAL TUNNEL
Sanjay Sah and Kabir Maharjan were rescued alive from the Trishuli 3A hydropower tunnel, nine days after the August 26 flash flood.
Rescuers heard voices inside and are continuing the search for others who may remain trapped. pic.twitter.com/ttV3RKbdtd
— Subodh Kumar (@kumarsubodh_) September 4, 2026
ریسکیو اہلکاروں نے جمعے کی صبح سرنگ کے اندر سے آوازیں سنیں، جس سے تصدیق ہوئی کہ کچھ افراد اب بھی زندہ ہیں اور ان کے مقام کا تعین ممکن ہوگیا۔
فوجی ترجمان کے مطابق زندہ بچائے گئے کارکنوں میں سے ایک نے امدادی ٹیم کو بتایا کہ سرنگ کے اندر مزید افراد بھی زندہ موجود ہیں، جس کے بعد ریسکیو آپریشن مزید تیز کردیا گیا ہے۔
مقامی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی تصاویر میں پہلے بچائے گئے کارکن کو کیچڑ سے لت پت حالت میں دکھایا گیا، جسے ایک امدادی کارکن اپنے کندھے پر اٹھا کر سرنگ سے باہر لا رہا تھا۔
مزید پڑھیں: نیپال میں سیلابی تباہ کاری: مذہبی رسومات ادا کیے بغیر ہی اجتماعی تدفین کا آغاز
ایک بچائے گئے کارکن کے بھائی امیر مہاراجن نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اس وقت اپنے جذبات بیان نہیں کر سکتے اور صرف خدا کے شکر گزار ہیں۔
ان کے مطابق خاندان اسپتال میں اپنے عزیز سے ملاقات کے لیے روانہ ہوچکا ہے۔
نیپال کی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے مطابق تریشولی 3 اے منصوبے سے کم از کم 557 کارکن لاپتا ہیں، جن میں سے تقریباً 115 کے سرنگ میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔

نیپال کے وزیر مواصلات بکرم تِمیلسینا نے مزید کارکنوں کے زندہ بچائے جانے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مزید افراد کے ریسکیو ہونے کی منتظر ہے۔
واضح رہے کہ نیپال میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب میں کم از کم 1,259 افراد ہلاک جبکہ 5,000 سے زائد لاپتا ہیں۔
مزید پڑھیں: نیپال میں سیلاب: لاپتا افراد کے زندہ ہونے کی امیدیں معدوم، چین نے تبت کے متاثرہ علاقے تک رسائی بحال کردی
حکام کے مطابق یہ سیلاب ممکنہ طور پر گلیشیئر کے ٹوٹنے کے باعث آیا تھا، نیپال کے علاوہ سرحد پار چین کے تبت علاقے میں بھی 21 افراد ہلاک اور 541 لاپتا ہوئے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق نیپال کے 12 ہائیڈرو پاور منصوبوں سے تقریباً 900 کارکن لاپتا ہیں، جن میں سے لگ بھگ 500 کے سرنگوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔













