سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو بلاک کرنے کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بلاک کرنے کی کسی میں ہمت نہیں، تاہم انہوں نے خود سہیل آفریدی کو بلاک کیا تھا اور ان کے بقول یہ فیصلہ بالکل درست تھا۔
علی امین گنڈاپور نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سہیل آفریدی سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے، نہ سہیل آفریدی نے ان سے رابطہ کیا اور نہ انہوں نے خود رابطہ کیا۔
سابق وزیراعلیٰ نے سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وزیراعلیٰ بنانے کی ایک بڑی وجہ وہ خود بھی تھے۔ ان کے مطابق اس وقت کوشش یہ تھی کہ ایسا شخص وزیراعلیٰ بنایا جائے جو ان کے خلاف کسی ’اینٹی گروپ‘ یا سازش کا حصہ نہ ہو۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جب انہیں صوبائی صدارت سے ہٹایا گیا تو بعض افراد نے گروپ بندی کرکے ان کے خلاف سرگرمیاں شروع کردی تھیں اور عملی طور پر کام نہیں کر رہے تھے۔ ان کے بقول سہیل آفریدی ان کے وزیراعلیٰ بننے کے ایک ہفتے یا دس روز بعد مسائل پیدا ہونا شروع ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی فارغ، اکبر ایس بابر کی تابڑ توڑ واپسی، عمران خان کا نیا پلان کیا ہے؟
انہوں نے بتایا کہ صورتحال کے بارے میں جاننے کے لیے انہوں نے سہیل آفریدی سے رابطہ کیا تاہم وہ انہیں مطمئن نہیں کرسکے۔ علی امین گنڈاپور کے مطابق اس کے بعد دونوں کے درمیان رابطہ ختم ہوگیا اور انہوں نے سہیل آفریدی کو بلاک کردیا۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ انہیں امید تھی کہ سہیل آفریدی صورتحال کو سمجھیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سہیل آفریدی کو ان کی ضرورت نہیں تو انہیں بھی سہیل آفریدی کی ضرورت نہیں۔
سابق وزیراعلیٰ نے عمران خان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جسے عمران خان وزیراعلیٰ بناتے ہیں، وہ ان کا بھی وزیراعلیٰ ہے اور وہ اسے اون کرتے ہیں۔













