سابق قومی کپتان اور وکٹ کیپر بیٹر راشد لطیف نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے انگلینڈ کے خلاف ناکامیوں کے بعد کوچنگ اسٹاف اور ٹیم میں کی جانے والی ہنگامی تبدیلیوں پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ ‘کیا اب بابر اعظم اگلا ہدف ہیں؟’۔
راشد لطیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنی پوسٹ میں پی سی بی کے حالیہ فیصلوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
‘Is Babar Azam the next target?’: Rashid Latif reacts to Aaqib Javed’s claim that captain ignored selectors’ advice
Details: https://t.co/VGhGKAUQ2j
— The Current (@TheCurrentPK) September 4, 2026
انہوں نے ریڈ بال کوچز سرفراز احمد اور عمر گل کو واپس بھیجنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‘اگر ٹیم کو ریموٹ کنٹرول سے ہی چلانا تھا تو سرفراز اور عمر گل کو انگلینڈ بھیجنے کا کیا مقصد تھا؟’۔
یہ بھی پڑھیں:لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد قومی ٹیم کو ایک اور دھچکا، کپتان بابر اعظم بخار میں مبتلا
انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ سابق ہیڈ کوچز گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی سے سلیکشن کے اختیارات کیوں واپس لیے گئے۔
راشد لطیف کا مزید کہنا تھا کہ ‘اگر کپتان بابر اعظم ہدایت پر عمل نہیں کر رہے تھے تو انہیں کپتانی سے ہٹایا جانا چاہیے تھا، کوچز کو سزا کیوں دی گئی؟’۔
انگلینڈ کے خلاف بدترین شکست اور اسکواڈ میں تبدیلیاں
پی سی بی کے یہ اقدامات انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز میں مسلسل دو ناکامیوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔
قومی ٹیم کو لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں 3 دن کے اندر اننگز اور 103 رنز سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر 3 میچوں کی سیریز میں 0-2کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لی ہے۔
مزید پڑھیں:انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ، محمد عباس نے تاریخی اعزاز اپنے نام کر لیا
برمنگھم کے ایڈجبسٹن گراؤنڈ میں 9 سے 13 ستمبر تک کھیلے جانے والے تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے لیے بورڈ نے 7 کھلاڑیوں کو ریلیز کر کے 5 ان کیپڈ پلیئرز سمیت 7 نئے کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔
کوچنگ اسٹاف میں نیا ردوبدل
اس سیریز کے پس منظر میں پی سی بی کے انتظامی فیصلوں اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
آخری ٹیسٹ کے لیے پی سی بی نے سرفراز احمد اور عمر گل کو ریڈ بال کوچنگ کے عہدوں سے فارغ کر کے ان کی جگہ وائٹ بال کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نائل کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔
راشد لطیف کے اس حالیہ بیان نے پی سی بی کے فیصلوں کی شفافیت اور ٹیم مینجمنٹ کی حکمتِ عملی پر ایک نیا بحث چھیڑ دی ہے۔














