سچائی کی قیمت اور بے حسی کا تازیانہ: میر رضا کیس میں گواہی دینے والا غریب ڈرائیور کیوں بے گھر ہو گیا

ہفتہ 5 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کسی کی مدد کرنا، سچ کا ساتھ دینا اور قانون کا احترام کرنا اس معاشرے میں کتنا بڑا جرم بن سکتا ہے؟ اس کا جیتا جاگتا ثبوت میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی حالیہ کارروائی میں سامنے آیا ہے۔ ایک طرف جہاں ایک نوجوان کی ناگہانی موت کا درد ہے، وہیں دوسری طرف ایک ایسے محنت کش کی داستانِ غم ہے جس نے پولیس اور متاثرہ خاندان کا ساتھ تو دیا، مگر بدلے میں اس کا روزگار اور سر سے چھت دونوں چھن گئے۔

جوڈیشل کمیشن کے روبرو پیش ہونے والے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور احسان اللہ نے جب روسٹرم پر کھڑے ہو کر اس رائیڈ کا احوال سنانا شروع کیا جس میں میر رضا اور احسان اللہ تھے، 2 انجان لوگ سواری ایک بنا جانے کے اگلی صبح زندگی میں کیا کچھ تبدیل کرنے جا رہی ہے، عدالت کا منظر ایسا دکھائی دے رہا تھا جیسے ایک سنسنی خیز مووی کے آخری لمحات سکرین پر چل رہے ہوں اور سب اس میں ڈوب چکے ہوں۔

جب آن لائن ٹیکسی ڈرائیور احسان اللہ کو کمیشن نے روسٹرم پر طلب کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ یہ ایک عام سا ڈرائیور کیا بیان دے گا لیکن احسان اللہ حیران کرنے آیا تھا اور حیران کرتا چلا گیا۔

کمیشن نے احسان اللہ سے سوال کیا کہ لوکیشن کہاں کی دی تھی؟ میر رضا نے کہاں جانے کا کہا تھا؟ احسان اللہ کا کہنا تھا کہ میر رضا نے لوکیشن گلستان جوہر کی دی تھی مگر راستہ تبدیل کروایا، میر رضا نے کہا گاڑی تیز چلاؤ، جلدی جانا ہے، ڈرائیور کی جانب سے گلستان جوہر جانے والے راستے کی لوکیشن میپ بھی کمیشن کے روبروجمع کروایا گیا۔

احسان اللہ کہتے ہیں میر رضا نے کہا کہ میپ دیکھنا چھوڑی تم جلدی چلاؤ میں راستہ سمجھاتا ہوں، میں نے فون رکھ دیا اور گاڑی تیز چلانا شروع کردی۔

کمیشن نے استفسار کیا کہ جہاں میر رضا کو ڈراپ کیا وہاں پر کیا تھا؟ احسان اللہ نے بتایا کہ لوکیشن پر سناٹا تھا اور ہمیں روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں میر رضا کو ڈراپ کے قریب دوسری رائڈ قبول کرلی تھی۔

کمیشن نے سوال کیا کہ کیا میر رضا خوش باش تھے؟ اس پر احسان اللہ کا کہنا تھا کہ میں گاڑی چلا رہا تھا مجھے علم نہیں، میر رضا نے گاڑی میں اپنے فون سے کنیکٹ کرکے گانے چلائے، گانوں کی آواز بلند تھی، سڑک خالی تھی تو میر رضا نے کہا گاڑی تیز چلاؤ،4:28 صبح کو میر رضا کو ڈراپ کیا۔

کمیشن نے پھر سوال کیا کہ کیا میر رضا نے گاڑی پر بات کی تھی؟ اس پر احسان اللہ کا کہنا تھا کہ کوئی کال تو نہیں آئی لیکن میر رضا موبائل فون استعمال کررہا تھا، کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا آپ سے کوئی بات کی گاڑی میں؟ مجھ سے کچھ بات نہیں کی، اس وقت میرے منہ میں ’رجنی/تمباکو‘ تھی جس کی وجہ سے میں بات نہیں کرسکتا تھا۔

احسان اللہ بتاتے ہیں کہ واقعے کے بعد مکان مالک نے مجھے گھر سے نکال دیا، ابھی میں تھانے میں رہتا ہوں، کمپنی نے گاڑی بھی واپس لے لی ہے، مجھے کہا گیا جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک گاڑی ملے گی نہ کام ملے گا، یہ سن کر کمیشن اور وکیل مدعی جبران ناصر حیران ہوئے۔

احسان اللہ نے بتایا کہ میں ایک غریب انسان ہوں، میرا بھائی ٹریفک حادثے میں اس وقت اللہ کو پیارا ہوا جب میں خود گاڑی چلا رہا تھا، میں کام کرتا ہوں تو گھر کا چولہا جلتا ہے۔

احسان اللہ نے بتایا کہ مجھے تو جس وقت اس واقعہ کا علم ہوا میں پوچھتے پوچھتے لواحقین کے دکھ میں شریک ہونے آیا، ہماری روایت ہے کہ ہم مولوی کے ساتھ دعا کرنے جاتے ہیں اور میں بھی 2 مولویوں کے ساتھ میر رضا کے گھر دعا کے لیے پہنچا۔

احسان اللہ نے مزید بتایا کہ میں نے اس وقت بھی میر رضا کے والد کو بتایا کہ میری کسی قسم کی ضرورت ہوئی میں ہمیشہ حاضر رہوں گا، کمیشن کے سامنے بیان قلم بند کرنے کے بعد احاطہ عدالت میں ایک وکیل نے احسان اللہ کو نوکری کی پیشکش بھی کی۔

مگر اصل دردناک داستان اس واقعے کے بعد شروع ہوئی۔ احسان اللہ نے نہ تو کچھ چھپایا اور نہ ہی خوفزدہ ہو کر بھاگا۔ اس نے میر رضا کے سوگوار اہل خانہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا، اپنے روٹ کا لوکیشن میپ اور تمام سفری تفصیلات کمیشن کو فراہم کیں۔

لیکن انسانیت اور قانون کا ساتھ دینے کی اس ڈرائیور کو جو قیمت چکانی پڑی، وہ ہمارے معاشرتی رویوں اور بے حسی پر ایک گہرا طمانچہ ہے۔

واقعے کا علم ہوتے ہی مکان مالک نے بغیر کسی وجہ کے احسان اللہ کو گھر سے نکال دیا۔ جس آن لائن کمپنی سے وہ گاڑی چلاتا تھا، اس نے بھی تفتیش کے خوف سے گاڑی واپس لے لی اور اسے کام سے نکال دیا، اپنوں اور بیگانوں سے دھتکارا ہوا یہ محنت کش، جو محض ایک گواہ تھا، آج کل فیروز آباد تھانے میں راتیں بسر کرنے پر مجبور ہے۔

جوڈیشل کمیشن نے اس صورتحال پر سخت تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تحریری حکم نامے میں ہمارے سماجی نظام کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔

کمیشن نے لکھا کہ احسان اللہ اس کیس میں کوئی مشتبہ شخص یا ملزم نہیں، بلکہ وہ ایک فرض شناس شہری ہے، مقتول کی تلاش کے دوران اہل خانہ کی مکمل مدد کی۔ لیکن انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارا سسٹم اور معاشرہ ایک مددگار کو انعام دینے کے بجائے اس کے ساتھ ملزم جیسا برتاؤ کر رہا ہے۔ اسے بظاہر محض سچ بولنے اور انسانیت کا مظاہرہ کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔

کمیشن نے تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری کو فوری حکم دیا ہے کہ وہ کمپنی انتظامیہ اور مکان مالک سے رابطہ کر کے ان کے خوف اور تحفظات کو دور کریں۔ تفتیشی افسر کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ دونوں فریقین کو یقین دہانی کرائیں کہ محض تفتیش کا حصہ بننے پر ڈرائیور کے خلاف کوئی جبری یا ناانصافی پر مبنی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

تحریری حکم نامے کے مطابق گزشتہ روز کی سماعت میں احمد، عبداللہ، ڈرائیور احسان اللہ اور ڈی ایس پی ارشد آفریدی کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ احمد نے سندھ ریونیو بورڈ کے نوٹس اور آن لائن ڈلیوری ایپ کی رسیدیں بھی جمع کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

وقت کی کمی کے باعث حیثم، رازق اور ایس ایچ او عدیل افضل کو اگلی سماعت کے لیے پابند کر دیا گیا ہے، جبکہ ایس ایچ او گلستانِ جوہر کامران قریشی اور کورٹ محرر ذیشان کو بھی نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ کمیشن کا اگلا اجلاس 7 ستمبر کو صبح 11 بجے دوبارہ ہوگا۔

میر رضا کیس کا یہ پہلو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر سچ بولنے اور مظلوم کی مدد کرنے والے احسان اللہ جیسے لوگ بے گھر اور بے روزگار ہوتے رہے، تو کل کو کوئی انسان دوسرے انسان کے کام آنے اور قانون کی مدد کرنے کی ہمت کیسے کرے گا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp