کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب ہم اپنے کام یا ادارے میں کسی ایک خرابی کو دور کرنے کے لیے معیار کا کوئی نیا نظام نافذ کرتے ہیں، تو اس کے نتیجے میں صرف وہی ایک مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ کئی دیگر نادیدہ اور غیر متوقع شعبوں میں بھی بہتری آنا شروع ہو جاتی ہے؟
یہ کوالٹی امپروومنٹ کا وہ ’دوہرا فائدہ‘ ہے جسے اگر ادارہ جاتی سطح پر شعوری طور پر شناخت کر لیا جائے، تو اسپتال اور ادارے نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ ترین انتظامی امور تک بے مثال ترقی کر سکتے ہیں۔
روزمرہ کی زندگی اور سائنسی دنیا اس اصول سے بھری پڑی ہے۔ گاڑیوں اور جدید موٹر سائیکلوں کی آمد سے پہلے، جب لوگ سائیکل پر سفر کرتے تھے، تو اس کے پہیے کے ساتھ ایک چھوٹا سا ’ڈائینمو‘ لگا دیا جاتا تھا۔ سائیکل چلاتے ہوئے ٹائر کا بنیادی مقصد سوار کو منزل تک پہنچانا تھا، لیکن وہی گھومتا ہوا ٹائر ڈائینمو کے ذریعے بجلی پیدا کرتا تھا جس سے سامنے کی لائٹ روشن ہو جاتی تھی۔ یعنی ایک ہی طاقت اور ایک ہی عمل سے دو کام حاصل ہو رہے تھے۔

اسی طرح توانائی کے شعبے میں سائنسی ماہرین ’کومبائنڈ ہیٹ اینڈ پاور‘ نظام کے تحت کارخانوں سے نکلنے والی اضافی حرارت کو ضائع کرنے کے بجائے اس سے بجلی یا گرم پانی حاصل کرتے ہیں۔
ہمارے گاؤں اور دیہاتوں کا روایتی سماجی نظام بھی اسی حکمت پر قائم تھا۔ جب کوئی شخص گاؤں سے شہر، کچہری یا بازار کے لیے نکلتا، تو محلے کے دوسرے گھروں سے پوچھ لیتا کہ ’کوئی کام ہے؟‘ اس کے ایک ہی سفر سے کسی کی چٹھی ڈاکخانے پہنچ جاتی، کسی کے لیے پنساری سے ہینگ اور اجوائن آ جاتی، اور کسی کی سلائی کا بکرم اور کروشیا کا سامان مل جاتا۔ سفر ایک تھا، لیکن فوائد کثیر۔
تمام انسانی علوم کا آپس میں ایک گہرا ’وحدانی نظام‘ ہے۔ دنیا کی بڑی ایجادات اور کوالٹی کے بہترین اصول کسی ایک شعبے کی ذاتی جاگیر نہیں رہے، بلکہ انسان نے ہمیشہ ایک شعبے سے سیکھ کر دوسرے شعبے کو سنوارا ہے۔

انسان نے پرندوں کے پروں کی بناوٹ، ہوا کے دباؤ اور گریوٹی پر ان کی حرکت کا مشاہدہ کیا۔ اسی مشاہدے سے ابنِ فرناس نے اپنے جسم پر پر باندھ کر گلائیڈر کی بنیاد رکھی، اور صدیوں بعد اورول رائٹ اور ولبر رائٹ نے اسی اصول پر جدید ہوائی جہاز کے لیے یہی اصول استعمال کیا۔
ایک نامور اسپتال پلاننگ ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے انفیکشن کنٹرول اور مریض کی حفاظت کی سخت ترین حس اپنے ایٹامک انرجی کمیشن میں کام کے دوران سیکھی۔ ایٹمی بجلی گھروں میں شعاعوں اور حادثات سے بچنے کے لیے ’زیرو ٹالرنس‘ کا نظام ہوتا ہے۔ یہی اپروچ جب ہیلتھ کیئر میں آئی تو ہمیں احساس ہوا کہ اسپتال کا انفیکشن یا ریڈی ایشن بھی اتنا ہی مہلک ہے جتنی جوہری تابکاری۔
پودوں کی ٹرانسپلانٹیشن میں جن بنیادی چیلنجز یعنی ’ٹرانسپلانٹ شاک‘ اور ’گرافٹ ریجیکشن‘ کا سامنا ہوتا ہے، بالکل وہی میکانزم انسانوں میں گردے، جگر یا دل کی پیوند کاری کے وقت پیدا ہوتا ہے۔ نباتاتی علوم نے طبی سائنسدانوں کو انسانی امیونولوجی سمجھنے میں راہ دکھائی۔
ہیلتھ کیئر نے روٹ کاز انالسس، 5S ورک پلیس مینجمنٹ، اور لین کے اصول ٹویوٹا انڈسٹری اور ہوابازی کے شعبے سے حاصل کیے۔
جب ہم اسپتال میں کسی ایک عمل کی کوالٹی بہتر کرتے ہیں، تو اس کے اثرات زنجیر کی کڑیوں کی طرح پورے اسپتال میں پھیل جاتے ہیں۔ اگر اسپتال کا عملہ صرف ہاتھ دھونے اور انفیکشن کنٹرول کے پروٹوکولز پر عمل کرے، تو اس کا بنیادی مقصد ’انفیکشن کو روکنا‘ ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ضمنی فوائد درج ذیل ہیں:
مریض کا اسپتال میں قیام کم ہو جاتا ہے۔
اینٹی بائیوٹکس کا غیر ضروری استعمال رکتا ہے اور دواؤں کا خرچ کم ہوتا ہے۔
بیڈز جلدی خالی ہوتے ہیں جس سے نچلی سطح پر انتظار کا وقت کم ہوتا ہے۔
مریضوں اور لواحقین کا اسپتال پر اعتماد بحال ہوتا ہے۔
طبی کچرے کی درست منتقلی
کچرے کو رنگین بالٹیوں، یعنی لال، پیلی اور سفید بالٹیوں میں الگ کرنے کا ظاہری مقصد ماحول کی حفاظت ہے۔ لیکن اس سے عملے کو نیڈل سٹک انجریز نہیں ہوتیں۔انسینریٹر پر جانے والا کچرا کم ہوتا ہے، جس سے اسپتال کے ویسٹ ڈسپوزل کے اخراجات میں 50 فیصد تک کمی آتی ہے۔
سامان کو درست جگہ پر رکھنے سے نہ صرف دوا کی تلاش کا وقت بچتا ہے، بلکہ ایکسپائری کی وجہ سے ہونے والا مالی نقصان ختم ہوتا ہے اور مریض کو بروقت علاج دستیاب ہوتا ہے۔

ہیلتھ کیئر مینجمنٹ میں 2 قسم کے فوائد ہوتے ہیں۔ اول ’غیر محسوس فوائد‘ جو خود بخود ہو رہے ہوتے ہیں لیکن کسی کی نظر ان پر نہیں پڑتی۔ دوم ’شعوری اور منظم فوائد‘ جب ایک سینیئر مینیجر یا ڈاکٹر ان ضمنی فوائد کو شناخت کر لیتا ہے اور انہیں ڈیٹا کی صورت میں محفوظ کرتا ہے، تو وہ ادارہ نہ صرف مالی طور پر مستحکم ہوتا ہے بلکہ ایک بہترین تربیتی ادارہ بن جاتا ہے۔
حاصلِ کلام یہ کہ کوالٹی امپروومنٹ کوئی بوجھ یا اضافی خرچ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا ’ڈائینمو‘ ہے جو اسپتال کے بنیادی پہیے کے ساتھ گھوم کر پورے ادارے کی کارکردگی کو روشن کر دیتا ہے۔
مضمون نگار کا تعارف:
ڈاکٹر ظفر اقبال ایک سینیئر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ہیں۔ ان کی بنیادی فکری و تحقیقی دلچسپی اخلاقی طبی پریکٹس، ہیلتھ کیئر مینجمنٹ اور کوالٹی امپروومنٹ ہے۔ اس کے علاوہ وہ اقبالیات، ملکی و بین الاقوامی سماجی اور سیاسی امور پر بھی لکھتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













