امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش اس امید پر انحصار کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی پیداواری صلاحیت میں اضافہ امریکا کو مزید دولت مند بنانے کے ساتھ مہنگائی میں کمی کا باعث بنے گا، جس سے تقریباً 40 ٹریلین ڈالر کے قومی قرض سے متعلق خدشات بھی کم ہوسکیں گے۔
تاہم، دستیاب اعداد و شمار اس امید کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ امریکی معیشت میں مجموعی آمدنی میں مزدوروں کا حصہ کم ہو کر 52.8 فیصد رہ گیا ہے، جو امریکی حکومت کی جانب سے 1947 میں اس کی پیمائش شروع کیے جانے کے بعد سے کم ترین سطح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ‘مصنوعی ذہانت عالمی معیشت میں 15.7 فیصد حصہ ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے’
دوسری جانب کاروباری اداروں کے منافع کی شرح ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ چکی ہے اور 14.9 فیصد تک جاپہنچی ہے۔
اقتصادی ماہر گریگوری ڈیکو کے مطابق پیداواری صلاحیت میں اضافے سے حاصل ہونے والے بیشتر فوائد دراصل مصنوعی ذہانت کے عروج سے پہلے ہی سامنے آچکے تھے۔
‘I don’t think there’s a floor’: Workers’ share of America’s income is at a record low before the AI boom even begins
But analysts are starting to wonder: richer for whom? Workers’ share of U.S. income has already fallen to its lowest level on record, while corporate profit… pic.twitter.com/N7RnljuHoK
— TheManhattan (@ManhattanPress) September 4, 2026
انہوں نے ایک تجزیاتی نوٹ میں لکھا کہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ آمدنی کے بجائے کاروباری اداروں کے منافع کے مارجن کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔
ان کے مطابق رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں امریکی معیشت کی پیداوار صرف 0.3 فیصد اضافی کام کے اوقات کے باوجود 1.7 فیصد بڑھی، جبکہ ملازمین کے معاوضوں میں 2.6 فیصد اضافہ ہوا۔
تاہم، موسم بہار اور موسم گرما میں تیل کی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی نے اس اضافی آمدنی کا تقریباً تمام فائدہ ختم کردیا۔
ماضی کے صنعتی ادوار سے مماثلت
ڈیکو کے مطابق ایسی صورت حال امریکی تاریخ میں نئی نہیں۔ 19ویں صدی میں ریلوے کی تیزی اور 1990 کی دہائی میں ڈاٹ کام بوم کے دوران بھی بڑی اور عمودی طور پر مربوط کمپنیوں نے ابتدائی معاشی فوائد سمیٹے، جبکہ چھوٹی کمپنیوں کو بڑھتی ہوئی لاگت اور پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم ان کے مطابق 1990 کی دہائی اس اعتبار سے مختلف تھی کہ سستے سافٹ ویئر سے حاصل ہونے والی پیداواری صلاحیت کے فوائد بالآخر معیشت کے وسیع تر حصے تک پہنچے اور اس کے نتیجے میں اجرتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
مزید پڑھیں: روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت میں خود انحصاری، حکومت نے واضح روڈ میپ پیش کردیا
ڈیکو نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں یہ ضروری نہیں کہ یہی عمل اسی رفتار اور ترتیب سے دہرایا جائے۔ ان کے مطابق یہ بھی واضح نہیں کہ اے آئی سے حاصل ہونے والے فوائد کس حد تک عام کارکنوں کی آمدنی میں منتقل ہوں گے۔
اے آئی انفراسٹرکچر اور جی ڈی پی کا حساب
ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کو مجموعی ملکی پیداوار میں کس طرح شمار کیا جاتا ہے۔
معاشی ماہر جوزف پولیٹانو کے مطابق امریکی مردم شماری کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والے بڑے کمپیوٹر سرورز کی خالص درآمدات سالانہ بنیاد پر تقریباً 450 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو 2023 میں تقریباً 50 ارب ڈالر سالانہ تھیں۔
تاہم، کسی سرور کی درآمد ایک جانب سرمایہ کاری میں اضافہ کرتی ہے جبکہ دوسری جانب درآمدات کے حساب میں بھی شامل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ جی ڈی پی کے حساب سے درآمد شدہ سرور کا خالص اثر تقریباً صفر رہ جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کا مضمون لازمی قرار دینے کا فیصلہ
اس کے باوجود ایسے سرورز اے آئی سے وابستہ صنعت میں بڑے پیمانے پر سرگرمی اور سرمایہ کاری کی عکاسی کرتے ہیں، یوں ایک ایسی صنعت میں بھی تیزی دکھائی دے سکتی ہے جس کے بعض دیگر حصے معاشی دباؤ یا کساد بازاری کا شکار ہوں۔
ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی بے مثال پیداواری صلاحیت کا فائدہ آخرکار کس کو پہنچے گا، کاروباری اداروں کو، سرمایہ کاروں کو یا عام امریکی کارکنوں کو؟












