انڈونیشیا میں آتش فشاں ماؤنٹ آناک کراکاٹاؤ سے خارج ہونے والی راکھ دارالحکومت جکارتہ تک پہنچنے کے بعد ملک کے مرکزی ہوائی اڈے پر پروازوں کا آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا گیا۔
جکارتہ کے باہر واقع سوئیکارنو ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق آتش فشاں کی سرگرمی میں اضافے کے باعث اتوار کی صبح پروازوں کی آمد و رفت دوپہر ایک بج کر 30 منٹ تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
آتش فشاں ایئرپورٹ سے 150 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع ہے۔
Semua flight dari Jakarta dan ke Jakarta batal hari ini di terminal 1C Bandara Soetta (Soekarno Hatta) karena abu vulkanik dari Anak Krakatau
Yang sabar yah temen2.. keselamatan ttp paling utama yah! Stay safe selalu. https://t.co/Zw2luKKHHs pic.twitter.com/dokqejOPX0
— hot cocoa (@bismillahyuk_) September 6, 2026
موسمیاتی ادارے بی ایم کے جی کے مطابق ماؤنٹ آناک کراکاٹاؤ میں جمعہ کی رات سے دوبارہ سرگرمی شروع ہوئی، جس کے دوران لاوے کے فوارے بلند ہوئے اور دھماکوں کی آوازیں 700 کلومیٹر دور تک سنی گئیں۔
آتش فشاں کے حوالے سے نگرانی کرنے والے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اتوار کو مزید دو مرتبہ دھماکے ریکارڈ کیے گئے۔
بی ایم کے جی کے مطابق آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ جاوا کی جانب 6 ہزار میٹر جبکہ سماٹرا کی جانب 15 ہزار میٹر کی بلندی تک پہنچ گئی، جبکہ جاوا کے صوبے بنتن کے بعض علاقوں میں بھی راکھ کے بادل دیکھے گئے۔
انڈونیشیا کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق ایئرپورٹ پر پروازوں کی معطلی کے پہلے مرحلے کے باعث 33 پروازیں متاثر ہوئی تھیں، جن میں 16 بین الاقوامی پروازیں منسوخ جبکہ 7 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
WATCH: Volcanic ash falls across Indonesia amid ongoing Mount Anak Krakatau eruption; Jakarta’s main airport suspends operations pic.twitter.com/gIgD9C6BPg
— Klaxon Wire (@KlaxonWire) September 6, 2026
شہری ہوا بازی کے ڈائریکٹر جنرل لقمان ایف لائسا نے بتایا کہ رات 12 بج کر 35 منٹ سے ایک بج کر 5 منٹ تک کیے گئے ٹیسٹ میں ایئرپورٹ کے اطراف آتش فشانی راکھ کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد پروازوں کی معطلی میں توسیع کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی سمیت ہر آپریشنل فیصلے میں مسافروں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ حکام ایئرلائنز، فضائی نیویگیشن سروسز اور موسمیاتی ادارے کے ساتھ مل کر صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
آتش فشاں کی سرگرمی کے باعث سنگاپور ایئرلائنز سمیت متعدد فضائی کمپنیوں کی پروازیں بھی متاثر ہوئیں، سنگاپور ایئرلائنز نے ہفتے کے روز جکارتہ آنے اور جانے والی 2 پروازیں منسوخ جبکہ مزید دو پروازیں اتوار تک مؤخر کردیں۔
🌋🇮🇩 INSANE FOOTAGE: A fishing boat found itself dangerously close to the erupting Anak Krakatau volcano in Indonesia, battling through heavy ash and falling volcanic debris.
In the final seconds, the towering eruption column becomes visible above the volcano.
Indonesia’s…
— XPRESS (@Xpress_24_7) September 5, 2026
انڈونیشیا کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے نے ہفتے کو واضح کیا تھا کہ آتش فشاں پھٹنے کے نتیجے میں فوری طور پر سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ماؤنٹ آناک کراکاٹاؤ 1920 کی دہائی میں 1883 کے تباہ کن کراکاٹاؤ آتش فشاں کے بعد بننے والے سمندری گڑھے سے نمودار ہوا تھا۔
1883 کا آتش فشانی واقعہ تاریخ کے مہلک ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔

آناک کراکاٹاؤ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران وقفے وقفے سے پھٹتا رہا ہے۔ 2018 میں بھی اس آتش فشاں کے پھٹنے سے اس کے دہانے کا ایک حصہ منہدم ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں آنے والی سونامی نے جاوا اور سماٹرا کے ساحلی علاقوں میں 400 سے زائد افراد کی جان لے لی تھی۔
ماہرین کے مطابق آتش فشانی راکھ طیاروں کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ یہ جیٹ انجنوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ پائلٹس کے لیے حدِ نگاہ بھی متاثر کرسکتی ہے۔














