ممتاز دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون نے کہا ہے کہ پاکستان نے 1965 کی تاریخ دہراتے ہوئے 2025 میں بھی بھارت کا غرور خاک میں ملا کر اسے روایتی جنگ میں عبرتناک شکست دی ہے، تاہم عسکری محاذ پر ہزیمت اٹھانے کے بعد مکار دشمن اب جھوٹے پروپیگنڈے اور ’انفارمیشن وار‘ کا سہارا لے رہا ہے جس کا قوم کو بھرپور مقابلہ کرنا ہے۔‘
6 ستمبر یومِ دفاع کے حوالے سے وی نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) آصف ہارون نے کہا کہ 6 ستمبر پاکستان کے لیے ایک خاص دن ہے، جب دنیا نے پاکستان کی جرات کو دیکھا اور اسے سلام پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ 1965 کی جنگ کے بارے میں مغربی اور مقامی، دونوں مصنفین کی کتابیں موجود ہیں۔ ان دونوں میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ ستمبر 1965 کی جنگ میں پاکستان نے اپنے سے 3 گنا بڑی اور بڑے دعوے کر کے حملہ آور ہونے والی بھارتی فوج کو کس طرح شکست دی۔
یہ بھی پڑھیں:2025 پاک بھارت جنگ: بھارت کی بیانیہ سازی کی کوششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی نہ مل سکی
بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون کے مطابق ‘ہم نے نہ صرف ان کے حملوں کو پسپا کیا بلکہ انہیں پیچھے دھکیل کر پیش قدمی بھی کی۔‘
یومِ دفاع کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دن ہم اپنے ان شہیدوں اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جرات اور بہادری سے نہ صرف مادرِ وطن کا دفاع کیا، بلکہ اپنے خون سے وطن کا نام روشن کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 2025 کی جنگ میں پاکستان نے جس طرح سے بھارت کو شکست دی، اس کا ثبوت دنیا بھر میں پاکستان کو ملنے والی پذیرائی اور بھارت کو ملنے والی ملامت ہے۔
1965 اور 2025 کی پاک بھارت جنگ کی مماثلت
بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون نے کہا کہ 1965 میں بھی بھارت کو بہت زعم تھا اور وہ پاکستان کو کچھ نہیں سمجھتا تھا، جبکہ پاکستان نے اپنے عزم، حوصلے اور جرات سے اسے حیران کر دیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اس وقت کی جنگ میں بھارت کا دعویٰ تھا کہ وہ جلد لاہور فتح کر لے گا، لیکن وہاں اس کا غرور خاک میں مل گیا۔ پھر اس نے چونڈہ پر حملہ کیا تو وہاں بھی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ جنگ بندی کے لیے اقوامِ متحدہ چلا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 1965 میں ہم اس پوزیشن میں تھے کہ مزید آگے بڑھ سکتے تھے، جبکہ بھارت کی فرسٹ آرمرڈ ڈویژن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی تھی۔
2025 کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی بھارت کو پاکستان کے بارے میں بڑی غلط فہمیاں تھیں کہ یہاں بہت سارا خلفشار اور تقسیم ہے۔ اس مقصد کے لیے بھارت نے 2022 سے لے کر 2025 تک بھرپور کام کیا تاکہ پاکستان اندر سے کمزور ہو جائے۔
مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت، پاک بھارت جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے بتایا کہ بھارت نے فاٹا اور بلوچستان میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کی۔ اس کے علاوہ اسے اسرائیل اور امریکا کی آشیرباد حاصل تھی کہ بات روایتی جنگ تک محدود رہے گی اور نیوکلیئر سطح تک نہیں جائے گی، لیکن ہم نے اسے روایتی جنگ میں بھی شکست سے دوچار کیا۔
بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون نے واضح کیا کہ 2025 کی جنگ میں ٹیکنالوجی بہت ایڈوانس ہو گئی تھی، لیکن جس چیز نے دنیا کو سب سے زیادہ حیران کیا وہ پاک افواج کے تینوں بڑے شعبوں کے درمیان شاندار اشتراکِ کار تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ 2019 میں بھارت کے فضائی حملے کے بعد سے ہی ہم نے اپنی تیاری شروع کر دی تھی، جس کا بھرپور مظاہرہ ہم نے مئی 2025 میں کیا۔
پاکستان کو اصل جنگ کے ساتھ انفارمیشن وار بھی لڑنی ہے
دفاعی تجزیہ نگار نے خبردار کیا کہ بھارت ایک مکار دشمن ہے۔ جھوٹ اور فریب اس کی سرشت میں شامل ہے اور وہ چانکیہ کی حکمتِ عملی استعمال کرتا ہے۔
انہوں نے مثال دی کہ حال ہی میں یورپ کی ایک جعلی پروپیگنڈہ لیب پکڑی گئی جس میں جعلی ویب سائٹس اور جعلی صحافی شامل تھے۔ ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک دہشتگرد ریاست کے طور پر پیش کیا جائے۔
مزید پڑھیں:کیا بھارت اب پاکستان سے جنگ لڑنے کے قابل ہے، پاکستانیوں کی رائے کیا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے غلط معلومات پھیلانے کا سلسلہ اب بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ 10 مئی کی جنگ ہارنے کے بعد دنیا نے بھارت کی شکست کو خود دیکھا، لیکن اب ایک سال گزرنے کے بعد انہوں نے ایک نئی کہانی گھڑ لی ہے۔
بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون کے مطابق اس نئی کہانی کے ذریعے بھارت دنیا کو بتانا چاہتا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے جہاز گرائے اور ہمارا نقصان کیا۔
انہوں نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ‘اب دنیا نے بھارت کا اصلی چہرہ دیکھ لیا ہے اور وہ بھارت پر نہیں بلکہ ہم پر یقین کرتی ہے، تاہم اس انفارمیشن وار کا ہم نے ہر محاذ پر مقابلہ کرنا ہے۔’












