امریکی خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکاف نے کیف میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات میں واضح کیا ہے کہ واشنگٹن روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع ’پیس پیکیج‘ پر کام کر رہا ہے۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد محض عارضی طور پر لڑائی روکنا نہیں، بلکہ خطے میں ایسا دیرپا اور مستقل امن قائم کرنا ہے جو یوکرین کی تعمیرِ نو اور مستقبل میں کسی بھی نئے تنازع کو روکنے میں مددگار ثابت ہو۔
جیرڈ کشنر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ایک ایسا معاہدہ تشکیل دیا جا سکے جس سے یوکرین، روس اور عالمی برادری سب کو فائدہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں:یوکرائن کیخلاف روس کا ساتھ دینے والے شمالی کوریائی فوجیوں کے لیے اعزازات
انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ امن کا قیام ایک مشکل اور پیچیدہ ہدف ضرور ہے، لیکن یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے ہر حال میں حل ہونا چاہیے۔
واشنگٹن صرف موجودہ جنگ کے خاتمے کا طریقہ کار نہیں ڈھونڈ رہا، بلکہ وہ طویل مدتی امن کے لیے درست حالات اور انتظامات پیدا کرنا چاہتا ہے۔
امریکی وفد کی سنجیدگی اور اہم ملاقاتیں
ماسکو میں مذاکرات کے بعد کیف پہنچنے والے اس اعلیٰ سطح کے امریکی وفد میں امریکی محکمہ خزانہ کے اہلکار جین لینگ بھی شامل تھے، جنہیں وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا دستِ راست سمجھا جاتا ہے۔
اسٹیو وٹکاف نے واضح کیا کہ قومی سلامتی اور محکمہ خزانہ کے اعلیٰ حکام کی شمولیت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ واشنگٹن ان مذاکرات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
انہوں نے ان مذاکرات کو انتہائی جامع قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکی وفد اپنے مقاصد کے حصول تک یہ کام جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
زیلنسکی کے مطالبات اور طنزیہ تحائف کا تبادلہ
صدر زیلنسکی نے مذاکرات کی قیادت کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کے لیے امن کا ’منصفانہ‘ ہونا اولین شرط ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ گزشتہ 10 سے 12 ماہ کے دوران یوکرین کے دفاعی لحاظ سے مضبوط ہونے کے باوجود، سردیوں کی آمد ایک بڑا چیلنج رہے گی۔اس کے لیے فوج کی مالی معاونت، انسانی ضروریات اور مقامی دفاعی پیداوار پر فوری توجہ درکار ہے۔
مزید پڑھیں:یوکرائن کے فوجی قیدیوں سے بھرا جہاز روس نے خود مارگرایا؟
ملاقات کے دوران ایک دلچسپ لمحہ اس وقت آیا جب یوکرینی صدر نے امریکی ایلچیوں کو ’کیف رجیم‘ کی عبارت والی ٹی شرٹس تحفے میں دیں۔
واضح رہے کہ یہ اصطلاح عموماً روسی حکام اور سرکاری میڈیا کی جانب سے یوکرینی حکومت کی سیاسی حیثیت کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جس کا زیلنسکی نے نہایت طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
مذاکرات کے 2 اہم مراحل
روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس تباہ کن جنگ نے عالمی معیشت اور خطے کے استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور اب نئی امریکی انتظامیہ اس تنازع کو فیصلہ کن انداز میں ختم کرنے کے لیے متحرک ہو گئی ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق امن مذاکرات کا یہ عمل 2 حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ محدود اور براہِ راست بات چیت پر مبنی تھا، جبکہ دوسرے مرحلے میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے قومی سلامتی کے مشیروں کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ اس سفارتی کوشش کو مزید مستحکم اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔














