پاکستان سے یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد نمایاں کمی، آخر یہ کیسے ممکن ہوا؟

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان سے یورپی ممالک کی جانب غیر قانونی ہجرت کے رجحان میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین کی سرحدی و ساحلی نگرانی کرنے والے ادارے فرونٹیکس کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے ابتدائی 2 ماہ کے دوران یورپ میں غیر قانونی سرحدی داخلے کی کوشش کرنے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 64 فیصد کمی آئی ہے۔

مزید پڑھیں: لیبیا کشتی حادثہ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث باپ بیٹے کو 44 سال قید کی سزا

اعداد و شمار کے مطابق جنوری اور فروری 2025 کے دوران مجموعی طور پر ایک ہزار 224 پاکستانی شہری یورپ کی سرحدوں پر غیر قانونی داخلے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑے یا شناخت کیے گئے تھے۔

جبکہ 2026 کے اسی عرصے میں یہ تعداد کم ہو کر قریباً 440 رہ گئی۔ یوں ایک سال کے دوران ایسے کیسز میں قریباً 784 کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو غیر قانونی ہجرت کے رجحان میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

وسطی بحیرہ روم کا راستہ بھی متاثر:

فرونٹیکس کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کے لیے استعمال کیے جانے والے روایتی راستوں میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ خاص طور پر وسطی بحیرۂ روم کے راستے پر پاکستانی شہریوں کی غیر قانونی داخلے کی نشاندہی میں ایک مرحلے پر 63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

یاد رہے کہ یہ راستہ ماضی میں یورپ پہنچنے کے خواہش مند غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے اہم راستوں میں شمار ہوتا رہا ہے، تاہم حالیہ اعداد و شمار اس راستے پر پاکستانی شہریوں کی نقل و حرکت میں واضح کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن:

حکام کے مطابق غیر قانونی ہجرت میں کمی کے اہم عوامل میں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی اور غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے نگرانی کا دائرہ وسیع کرنا شامل ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے عثمان انور کی ہدایات پر انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے خلاف کارروائیوں میں تیزی پیدا کی ہے۔

حکام کی جانب سے نہ صرف پہلے سے استعمال ہونے والے راستوں کی نگرانی کی جا رہی ہے بلکہ انسانی اسمگلروں کی جانب سے اختیار کیے جانے والے نئے اور متبادل راستوں پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔

ایف آئی کے مطابق اس حکمتِ عملی کا مقصد ایسے عناصر کی سرگرمیوں کو روکنا ہے جو پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچانے کے نام پر بھاری رقوم وصول کرتے ہیں اور انہیں خطرناک سفری راستوں پر سفر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے والے مسافروں کے لیے بھی نئی پالیسی:

ایف آئی اے کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی کی جارہی ہے کہ سخت امیگریشن کنٹرولز کی وجہ سے جائز اور قانونی دستاویزات رکھنے والے پاکستانی مسافروں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

واضح رہے کہ امیگریشن کنٹرول کے باعث ایف آئی اے کو بہت زیادہ تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن نعمان صدیقی کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہدایات پر ایسے واضح طریقہ کار متعارف کرائے گئے ہیں جن کا مقصد ایک طرف غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کرنا اور دوسری جانب حقیقی اور مکمل دستاویزات رکھنے والے مسافروں کے لیے سفری عمل کو آسان بنانا ہے۔

نئے طریقۂ کار کے تحت کسی مسافر کو محض صوابدیدی بنیاد پر آف لوڈ نہیں کیا جا سکے گا۔ اگر کسی شخص کو بیرونِ ملک سفر سے روکا جاتا ہے تو امیگریشن حکام کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ اس فیصلے کی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کی جائیں۔

آف لوڈنگ کے عمل میں شفافیت پر زور:

حکام نے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے ایک مخصوص فارم بھی متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے ایئرپورٹس پر ہونے والے آف لوڈنگ کے فیصلوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے گا۔

ایسے معاملات کی نگرانی اعلیٰ سطح پر کی جا رہی ہے تاکہ امیگریشن حکام کے فیصلوں میں جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے اور ایسے مسافروں کو بلاوجہ روکنے کے امکانات کم ہوں جو تمام ضروری اور جائز سفری دستاویزات رکھتے ہوں۔

یہ اقدام اس لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے امیگریشن چیکنگ سخت کیے جانے کے دوران بعض اوقات قانونی طور پر سفر کرنے والے افراد کو بھی اضافی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نئے طریقہ کار کا مقصد دونوں پہلوؤں میں توازن قائم کرنا ہے۔

جعلی سفری دستاویزات کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال:

ایف آئی اے سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔ اس نظام کے ذریعے امیگریشن حکام کے لیے جعلی، مشکوک یا غیر قانونی سفری دستاویزات کی بروقت شناخت آسان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق ٹیکنالوجی پر مبنی تصدیقی نظام اور بہتر نگرانی کے طریقۂ کار کو مزید ترقی دی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سفری کوشش کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کی جا سکے۔

اس سے نہ صرف انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی میں مدد ملے گی بلکہ ایئرپورٹس پر امیگریشن کلیئرنس کے عمل کو بھی زیادہ مؤثر اور منظم بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

غیر قانونی ہجرت میں کمی ایک اہم پیشرفت:

پاکستانی شہریوں کی یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی کو حکام کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے تناظر میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس رجحان کو مستقل طور پر برقرار رکھنے کے لیے صرف سرحدی نگرانی اور گرفتاریوں پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔

غیر قانونی ہجرت کی بنیادی وجوہات میں بہتر روزگار، معاشی مواقع اور بیرونِ ملک بہتر مستقبل کی خواہش بھی شامل ہوتی ہیں۔ اسی لیے قانونی اور محفوظ ذرائع سے بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کے مواقع تک رسائی کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔

دوسری جانب انسانی اسمگلروں کے خلاف مسلسل کارروائی، عوام میں آگاہی، خطرناک غیر قانونی راستوں سے متعلق معلومات کی فراہمی اور قانونی امیگریشن ذرائع کو آسان بنانا بھی اس رجحان کو مزید کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

مشکوک مسافروں کی سوشل میڈیا سرگرمی بھی نگرانی کے دائرے میں

واضح رہے کہ حال ہی میں غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے نے مسافروں کی رسک بیسڈ اسکریننگ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معلومات کے استعمال پر توجہ مرکوز کردی ہے۔

ادارے کی حکمتِ عملی کے تحت ہر مسافر کی بلاامتیاز نگرانی کے بجائے ایسے افراد کی نشاندہی کی جاتی ہے جن کے سفری ریکارڈ، روٹ، ویزا، دستاویزات یا دیگر عوامل کی بنیاد پر شبہات پیدا ہوں۔ ایسے ہائی رسک یا مشکوک مسافروں کے کیسز میں دستیاب سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمی سے متعلق معلومات بھی جانچ کا حصہ بن سکتی ہیں، جس کا مقصد انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس، غیر قانونی ہجرت کی کوششوں اور ویزا یا سفری دستاویزات کے ممکنہ غلط استعمال کی بروقت نشاندہی کرنا ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے جدید پروفائلنگ اور رسک اینالیسس کے نظام کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ قانونی اور مکمل دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو غیر ضروری مشکلات سے بچاتے ہوئے صرف مشکوک اور زیادہ خطرے والے کیسز پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔

مزید پڑھیں: کراچی: ایف آئی اے کی بڑی کارروائیاں، انسانی اسمگلنگ سے متاثرہ خاتون ریسکیو، متعدد مسافر آف لوڈ

مجموعی طور پر فرونٹیکس کے تازہ اعداد و شمار پاکستان سے یورپ کی غیر قانونی ہجرت میں واضح کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جنوری اور فروری 2026 میں قریباً 440 پاکستانی شہریوں کی غیر قانونی سرحدی داخلے کی کوششوں کی نشاندہی، گزشتہ سال کے ایک ہزار 224 کیسز کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔

حکام کی جانب سے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی، سفری دستاویزات کی جدید جانچ اور امیگریشن کے عمل میں شفافیت بڑھانے کے اقدامات اس معاملے کو مزید مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp