کراچی: میر رضا علی کے قتل کا معمہ برقرار، پولیس کا عبوری چالان عدالت میں پیش، کوئی ملزم نامزد نہ ہوسکا

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے علاقے پی ای ایس ایچ ایس سے پراسرار طور پر لاپتا ہونے والے 25 سالہ نوجوان میر رضا علی خان کے اغوا اور بعد ازاں قتل کے ہائی پروفائل مقدمے میں تفتیشی ٹیم نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت عبوری چالان سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ کی عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔

چالان کے مطابق تمام تر جدید تکنیکی وسائل، جیو فینسنگ اور 53 گواہان سے تفتیش کے باوجود فی الوقت اصل ملزمان یا حتمی وجہ قتل کا تعین نہیں ہو سکا۔ تفتیش کو التوا میں رکھتے ہوئے کئی اہم ڈیجیٹل اور فارنزک رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

واقعات کا مکمل تسلسل

پولیس کے مطابق مقتول میر رضا علی خان رات قریباً 03:00 بجے بہادر آباد میں قائم اپنی دکان وافلکس سے گھر آیا اور والدہ کو بتا کر نکل گیا کہ وہ 10 منٹ میں نیچے سے واپس آتا ہے۔

چالان میں کہا گی اہے کہ مقتول کی منگیتر سلوائے نے رات 03:00 بجے دیکھا کہ میر رضا کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس انسٹاگرام، سنیپ چیٹ، فیس بک، لنکڈ ان ڈیلیٹ یا ڈی ایکٹیویٹ ہو چکے ہیں۔

سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کے مطابق مقتول رات 03:43 بجے دکان کے دراز سے سیکیورٹی گارڈ کا پستول نکال کر گاڑی میں رکھتا ہے اور بعد میں 03:57 بجے آن لائن بائیکیا ٹیکسی ڈرائیور احسان اللہ کے ذریعے گھر پہنچتا ہے۔

چالان کے مطابق رات 04:30 بجے مقتول منظور اسٹریٹ اور گلستانِ جوہر سروس روڈ کی طرف اکیلا پیدل جاتا دیکھا گیا۔

لاش کی برآمدگی

چالان کے مطابق دوپہر قریباً 11:45 بجے طفیل نرسری عقب مسجدِ خضر، بلاک 1، گلستانِ جوہر کے ملازم یاسر علی کو پودوں کو پانی دیتے ہوئے میر رضا کی لاش ملی۔ پولیس اور ایدھی مددگار کی ٹیموں نے لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا، جس کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات کا اضافہ کیا گیا۔

اعلیٰ سطحی تفتیشی ٹیم اور قبر کشائی

چالان میں کہا گیا ہے کہ آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی۔ مدعیِ مقدمہ کی درخواست اور عدالت کے حکم پر 8 اگست 2026 کو میڈیکل بورڈ کی موجودگی میں مقتول کی قبر کشائی کی گئی۔ جدید پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تضاد پایا گیا۔

برآمد شدہ مالِ مقدمہ

چالان میں 13 اہم اشیا کو بطور مالِ مقدمہ تحویل میں لینے کا ذکر ہے، جو تجزیے کے لیے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی لاہور کو ارسال کیے گئے۔

’وافلکس دکان کے سیکیورٹی گارڈ مظہر علی نے اپنا پسٹل کور تسلیم کیا۔ جائے وقوعہ سے گولی کا ایک خول بھی برآمد ہوا، جسے ڈی این اے اور کیمیکل تجزیے کے لیے ضبط کر لیا گیا۔ جائے وقوعہ اور نرسری کے قریب سے سگریٹ کا پیکٹ، لائٹر اور بلیچ کی دو بوتلیں بھی برآمد کی گئیں، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کر لی گئیں۔‘

شاملِ تفتیش گواہان

چالان میں کل 53 افراد کے بیانات کا اندارج ہے، جن میں مقتول کی والدہ مریم، ہمشیرہ علیشبہ، منگیتر سلوائے اور خالہ مہرین۔ شریکِ کار محمد احمد اور عبداللہ جنہوں نے عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔

اہم گواہوں میں کون کون شامل ہے؟

بائیکیا ڈرائیور احسان اللہ، نرسری ملازمین اور نائٹ ڈیوٹی چوکیدار محمد یوسف کو اہم گواہوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید، ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹر نسیم احمد، میڈیکل لیگل آفیسر جناح اسپتال اور ’سی پی ایل سی‘ کے فارنزک ماہرین بھی گواہوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

بین الاقوامی خط و کتابت اور تکنیکی تفتیش

چالان کے مطابق مقتول کی آئی کلاؤڈ آئی ڈی، 90 روز کا ڈیٹا اور ایپل اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے عدالت کے ذریعے ایپل کمپنی کو رسمی ای میلز ارسال کی گئی ہیں۔

مقتول کے کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس اور مالی لین دین کی تفصیلات کے لیے این سی سی آئی اے کو لیٹر جاری کیا گیا ہے۔ وافلکس اور مقتول کی گزشتہ 3 ماہ کی بینک ٹرانزیکشنز کا فارنزک جائزہ لیا جا رہا ہے۔

چالان کا حتمی نتیجہ

تفتیشی آفیسر ڈی ایس پی سراج الدین لاشاری نے چالان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود کیس کا حتمی ڈراپ سین نہیں ہو سکا۔ چونکہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی لاہور، ایپل کمپنی اور بائنانس سے موصول ہونے والی متعدد تکنیکی و فارنزک رپورٹس التوا میں ہیں، اس لیے مقدمے کی تفتیش کو التوا میں رکھ کر عبوری رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے تاکہ موصولہ رپورٹس کی روشنی میں اصل ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp