پمز آتشزدگی: تحقیقاتی کمیٹی نے سانحے کو ادارہ جاتی ناکامی قرار دے دیا

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نومولود بچوں کی ہلاکت کا باعث بننے والی آتشزدگی کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے سانحے کو ’نظام اور ادارہ جاتی ناکامی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آگ لگنے کی سب سے ممکنہ وجہ بجلی کی خرابی تھی۔

26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: پمز آتشزدگی واقعہ: وزیراعظم کا ہنگامی اجلاس، غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو رعایت نہ دینے کا حکم

واقعے کے بعد اسپتال میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر سوالات اٹھے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے مطالبات سامنے آئے تھے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے 8 افسران کے خلاف معطلی اور فوجداری کارروائی کا حکم بھی دیا تھا۔

سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر آتشزدگی کے روز ہی قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی نے اپنی تحقیقات اور سفارشات پر مشتمل 43 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کردی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ ’نظام اور ادارہ جاتی ناکامی ثابت ہوچکی ہے، جبکہ انفرادی ذمہ داری شواہد کی مضبوطی کے اعتبار سے مختلف ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق پمز اور اس کی اعلیٰ انتظامیہ پر بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ معلوم خطرات، سابقہ تنبیہات اور تفویض کردہ ذمہ داریوں کو مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بجلی سے پیدا ہونے والی چنگاری یہ بتاتی ہے کہ آگ کیسے شروع ہوئی، تاہم ادارہ جاتی نظام اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ واقعہ تباہ کن سانحے میں کیوں تبدیل ہوا۔

کمیٹی کے مطابق 14 نومولود بچوں کی جانیں صرف اس لیے نہیں گئیں کہ حفاظتی انتظامات میں ایک خامی رہ گئی تھی بلکہ اس لیے کہ بہت سے حفاظتی انتظامات یا تو موجود ہی نہیں تھے، کمزور تھے، بروقت فعال نہیں کیے گئے یا یہ تصدیق ہی نہیں کی گئی کہ وہ کام کرنے کی حالت میں ہیں۔

رپورٹ میں واقعے کے اسباب کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک مقامی نوعیت کی برقی خرابی نے غالباً آگ بھڑکائی، جبکہ آتش گیر مواد اور آکسیجن کی موجودگی نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی۔

تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق آگ کا بروقت سراغ لگانے اور اسے محدود کرنے کے لیے حفاظتی انتظامات ناکافی تھے، جبکہ ضرورت سے زیادہ رش، انخلا کی محدود گنجائش اور نومولود بچوں کو ہنگامی صورتحال میں محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کے لیے پہلے سے مشق شدہ نظام کی عدم موجودگی نے امدادی کارروائیوں کو محدود کردیا۔

کمیٹی نے قرار دیا کہ واقعے کی وجہ بننے والی کڑی واضح ہے: بجلی کی مقامی خرابی سے آگ شروع ہوئی، آتش گیر اور آکسیجن سے بھرپور ماحول نے اسے تیزی سے پھیلایا، ناکافی حفاظتی انتظامات آگ کو قابو کرنے میں ناکام رہے، جبکہ رش، محدود انخلا اور نومولود بچوں کے لیے ہنگامی نظام کی عدم موجودگی نے بروقت بچاؤ کی صلاحیت کو متاثر کیا۔

مزید پڑھیں: پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پمز اسپتال میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ نرسری میں موجود صرف ایک بچے کی جان بچائی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سوشل میڈیا کریئیٹرز پر ٹیکس کا نیا طریقہ متعارف: یوٹیوب کے ایک ہزار ویوز پر 195 روپے آمدن شمار ہوگی

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت پڑی تو ضرور لگے گی: فیصل کریم کنڈی

سعودی عرب میں پاک افواج دہائیوں سے متعدد شعبوں میں موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کا سی این این کو انٹرویو

پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستا، 8 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

سرکاری اور پرائیویٹ حج اسکیم میں بکنگ جاری، 65 ہزار سے زیادہ عازمین نے واجبات جمع کرا دیے

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان ایک پیج پر؟ حکومت کی مذاکرات کی آفر ایک ٹریپ

’پانی اور واش روم کی سہولت نہیں، مٹی پر سوتے ہیں‘، لانگ مارچ میں شامل پی ٹی آئی کارکنان رات کیسے گزارتے ہیں؟

متنی کے عوام پانی، صحت اور تعلیم کو ترس گئے، مگر خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات جلسے، جلوس اور لانگ مارچ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف! رک جاؤ

سات سالہ حبیبہ کے اسکول سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر

37 گیندیں، جب آفریدی افسانہ بنا