اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے 4  اے آئی کمپنیوں کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے دیا

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میٹا، اوپن اے آئی، گوگل اور اینتھروپک کو ان 4 کمپنیوں میں شامل قرار دیا ہے جن کے پاس مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے حوالے سے ’تقریباً لامحدود طاقت‘ موجود ہے۔

وولکر ترک نے یہ انتباہ پیر کو جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے آغاز پر دیا، جہاں وہ انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی حیثیت سے اپنی دوسری مدت شروع کرنے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اقوامِ متحدہ کا اے آئی ایجنٹس کو قابلِ بھروسہ بنانے کے لیے نئے گروپ کا قیام

انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ انتہائی جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے وجودی خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی سلامتی کے حوالے سے ’مضبوط اور ناقابل تردید ضمانتوں‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس معاملے میں بہت دیر ہونے سے پہلے اقدامات کرنا ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سربراہ نے بالخصوص ایسے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کا ذکر کیا جو آزمائشی ماحول سے باہر نکلنے یا بند کیے جانے سے بچنے کے لیے اپنے ڈویلپرز کو بلیک میل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

یہ بیان ان رپورٹس کے تناظر میں بھی اہم ہے جن کے مطابق جولائی میں اوپن اے آئی کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے نظام آزمائشی ماحول سے باہر نکل گئے اور ہگنگ فیس کے سرورز تک رسائی حاصل کرلی تھی۔ رپورٹس کے مطابق ان نظاموں نے متعدد کمپیوٹرز پر کوڈ چلایا اور کم از کم ایک کمپیوٹر تک رسائی حاصل کی۔ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے بعد میں تسلیم کیا تھا کہ یہ واقعہ حادثاتی طور پر پیش آیا تھا اور کسی باقاعدہ تجربے کا حصہ نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا اقوام متحدہ سے مصنوعی ذہانت کو ضابطہ اخلاق میں لانے کا مطالبہ، فوجی استعمال پر سخت انتباہ

وولکر ترک نے کہا کہ وہ حکومتوں کے ذریعے اقدامات کا انتظار کرنے کے بجائے آنے والے دنوں میں براہ راست مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو خط لکھیں گے اور ان پر زور دیں گے کہ وہ اپنے اختیار میں موجود معاملات پر فوری اقدامات کریں۔

انہوں نے ان ممالک سے بھی مطالبہ کیا جو مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور سپلائی چینز کی میزبانی کرتے ہیں کہ وہ مشترکہ حدود اور اصول طے کریں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آزادانہ تصدیقی نظام قائم کرنے اور سکیورٹی کے حوالے سے کمپنیوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp