وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیرصدارت گورننس انڈیکیٹرز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کی گورننس انڈیکیٹرز میں کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جامع روڈمیپ پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری کابینہ ڈویژن سمیت دیگر متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کو معاشی استحکام، کریڈٹ ریٹنگز اور گورننس انڈیکیٹرز کے تعلق پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ میکرو اکنامک استحکام سے دو سے ڈھائی برس میں کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہوئی، جبکہ کریڈٹ ریٹنگز کے جائزوں میں استعمال ہونے والا ڈیٹا عموماً دو سال پرانا ہوتا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ اصلاحات اور بہتری کا مکمل اثر عالمی ریٹنگز میں تاخیر سے ظاہر ہوتا ہے۔ معاشی استحکام، بہتر کریڈٹ ریٹنگ، کم قرض لاگت اور مضبوط گورننس باہم مربوط ہیں۔
اجلاس میں وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے گورننس انڈیکیٹرز میں بہتری کے لیے ماہرین پر مشتمل ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی، جو ایک ہفتے میں جائزہ لے کر سفارشات اور روڈمیپ پیش کرے گی۔
ذیلی کمیٹی گورننس انڈیکیٹرز کے ذیلی اجزا اور جائزہ طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
وزیر قانون نے ہدایت کی کہ جاری اصلاحات کے ساتھ فوری، درمیانی اور طویل المدتی اقدامات کی نشاندہی کی جائے۔ پاکستان کے حالات اور ادارہ جاتی ڈھانچے کے مطابق قابلِ عمل اصلاحات تجویز کی جائیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ گورننس میں بہتری کے ساتھ پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر بنانے کے اقدامات بھی تجویز کیے جائیں، جبکہ بین الاقوامی اور علاقائی بہترین طریقہ ہائے کار کا جائزہ لیا جائے۔
وزیر قانون نے فوری طور پر قابلِ عمل اقدامات پر مشتمل عبوری رپورٹ تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے کہاکہ مجوزہ اصلاحات میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ذمہ داریاں واضح کی جائیں۔













