ایم اے جناح روڈ پر واقع کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) بلڈنگ کے پہلے فلور پر قائم میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے دفتر میں 8 ستمبر کی صبح شدید آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں دفتر کے فرنیچر اور کچھ دستاویزات کو نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں فائر سیفٹی کریک ڈاؤن تیز، سی ڈی اے نے مزید عمارتیں سیل کردیں
آگ کی شروعات میئر کے دفتر سے متصل کچن یا ایئر کنڈیشنر کے آؤٹر یونٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث ہوئی جس نے تیزی سے پھیل کر میئر چیمبر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ کے نتیجے میں میئر کراچی کا مرکزی چیمبر، دفتر کا فرنیچر اور دیگر اہم دستاویزات مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئیں۔
مزید پڑھیے: فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے کا بڑا ایکشن، 3 اہم عمارتیں سیل
فائر بریگیڈ کی بروقت کارروائی اور عمارت کو فوری طور پر خالی کرائے جانے کے باعث کوئی جانی نقصان یا کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ریسکیو آپریشن
فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور کافی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا جس کے بعد کولنگ کا عمل بھی مکمل کیا گیا۔
سندھ حکومت اور کے ایم سی انتظامیہ نے واقعے کی وجوہات اور ہونے والے نقصان کے حتمی تخمینے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔
کے ایم سی بلڈنگ میں میئر کراچی کے دفتر میں آگ لگنے کے واقعے کے فوراً بعد قائم کی جانے والی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی نے عمارت کا تفصیلی معائنہ کیا۔
مزید پڑھیں: ’کاش یہ 70 کی دہائی کا کراچی ہوتا، جب بندر روڈ پر آگ بجھانے کے لیے پانی کی لائن ہوا کرتی تھی‘
ابتدائی فنی رپورٹ کے مطابق آگ کی بنیادی وجہ الیکٹرک شارٹ سرکٹ قرار دی گئی ہے جو ایئر کنڈیشنر کے وائرنگ سسٹم میں لوڈ بڑھنے کے باعث پیش آیا۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ آگ جان بوجھ کر لگائے جانے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
ریکارڈ اور دستاویزات کی صورتحال
ابتدائی تحقیقات کے مطابق اگرچہ دفتر کا بنیادی فرنیچر اور کاغذات جل گئے تھے تاہم کے ایم سی انتظامیہ کے مطابق میئر آفس کی زیادہ تر اہم فائلیں اور ریکارڈ ڈیجیٹل فارمیٹ میں محفوظ تھے جس کے باعث بلدیاتی امور اور سرکاری ریکارڈ کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔
اہم اور تاریخی دستاویزات کو علیحدہ آرکائیو میں محفوظ کرنے کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔
تاریخی عمارت کی مرمت و بحالی
کے ایم سی کی مرکزی عمارت چونکہ سنہ 1930 کی دہائی کی تاریخی اور ورثہ قرار دی گئی عمارت ہے اس لیے سندھ کلچرل ہیریٹیج ڈیپارٹمنٹ اور ماہرینِ تعمیرات کی مشاورت سے بحالی کا کام شروع کیا جا رہا ہے۔
تعمیرِ نو اور مرمت کے دوران عمارت کی اصل تاریخی ساخت اور پتھروں کی بناوٹ کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
میئر کراچی کے متبادل دفتر کی منتقلی
بحالی کا کام مکمل ہونے تک میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور ان کا عملہ کے ایم سی بلڈنگ میں ہی قائم متبادل چیمبر سے اپنے روزمرہ کے امور انجام دے رہے ہیں تاکہ بلدیاتی کام متاثر نہ ہوں۔
سیفٹی، سیکیورٹی اور فائر آڈٹ کا حکم
اس واقعے کے بعد میئر کراچی نے کے ایم سی کے تمام زونل دفاتر اور تاریخی عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کے ایم سی ہیڈ آفس میں آتشزدگی، میئر کراچی کا دفتر جل گیا
تمام دفاتر میں وائرنگ کی تبدیلی، جدید فائر الارم اور آگ بجھانے والے جدید نظام کی تنصیب کا کام تیز کردیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔













