مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کا شکار

منگل 8 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک بار پھر شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار 150 پوائنٹس (2.7 فیصد) کی بڑی کمی کے بعد 76 ہزار 350 پوائنٹس کی سطح پر آگیا ہے۔

کاروبار کے دوران ایک موقع پر انڈیکس میں 2500 سے زیادہ پوائنٹس کی شدید گراؤٹ بھی ریکارڈ کی گئی۔ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی جیو پولیٹیکل کشیدگی، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اندرونی معاشی و سیاسی عدم استحکام کے باعث سرمایہ کار شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور پرافٹ ٹیکنگ کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی

معاشی ماہر سلمان نقوی کے مطابق مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور عسکری کارروائیوں نے عالمی منڈیوں کو لرزا دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ عالمی سطح پر امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار اور مقامی ادارے محتاط اندازِ فکر اختیار کیے ہوئے ہیں اور اپنے سرمائے کو محفوظ جگہوں پر منتقل کررہے ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا بحران

ان کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں خطرات کی وجہ سے عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت 3.8 فیصد اضافے کے ساتھ 82.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان چونکہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درامدات پر منحصر ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، درآمدی بل اور اندرونی افراط زر کے بڑھنے کے خدشات نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا ہے۔

پرافٹ ٹیکنگ

اسٹاک ایکسچینج ایکسپرٹ شہریار بٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں انڈیکس کے بلند ترین سطح ساڑھے 78 ہزار پلس پوائنٹس پر پہنچنے کے بعد، بڑی مالیاتی کمپنیوں اور ادارتی سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت شروع کی، جس کی وجہ سے بینکنگ، سیمنٹ، اور آٹو جیسے اہم شعبوں میں مسلسل دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

معاشی ماہر محسن مسیڈیا کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں جاری موجودہ مندی کی بنیادی وجہ پاکستان کے اندرونی معاشی اشاریے نہیں بلکہ بیرونی اور جیو پولیٹیکل عوامل ہیں۔ جب تک مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہے گا۔

انکا کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر پاکستانی کمپنیوں کے نتائج اور پرائس ٹو ارننگ ریشو اب بھی انتہائی پُرکشش ہے۔ عالمی سطح پر قیمتوں کا دباؤ کم ہوتے ہی اور آئی ایم ایف کے ساتھ اگلی نشست کے مثبت نتائج سامنے آتے ہی مارکیٹ دوبارہ تیز رفتاری سے بحالی کی طرف لوٹ سکتی ہے۔

’اس وقت اپنے حصص سستے داموں بیچنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ مندی عارضی ہے اور ادارتی سرمایہ کار جلد ہی کم قیمتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبارہ خریداری شروع کریں گے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp