پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو چیلنج کیا ہے کہ اگر وہ پاکستان کے سیاسی و حکومتی نظام کو ناکام سمجھتے ہیں تو اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے کر آئیں۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ محسن نقوی کو اپنی رائے کے اظہار کا حق ہے، تاہم نظام کی خامیوں اور ناکامیوں پر بحث کاروباری فورمز کے بجائے قومی اسمبلی میں ہونی چاہیے۔ ان کے بقول ملک کی قسمت چند کاروباری افراد طے نہیں کرسکتے، ایسے معاملات پر منتخب نمائندوں کو فیصلہ سازی کا حق حاصل ہے۔
مزید پڑھیں:
پیپلز پارٹی چیئرمین نے محسن نقوی کی قومی اسمبلی میں کم حاضری پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انہیں کاروباری فورمز کے بجائے پارلیمنٹ میں آکر بات کرنی چاہیے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ کسی بھی وفاقی وزیر یا حکومتی نمائندے کے ساتھ اس معاملے پر پارلیمنٹ کے فلور پر بحث کے لیے تیار ہیں۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف نیا نہیں بلکہ طویل عرصے سے برقرار ہے، تاہم نئے صوبوں کو سیاسی عدم استحکام، غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے تمام مسائل کا حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔
@BBhuttoZardari challenges @MohsinnaqviC42 to take ‘failed system’ debate to parliament #PPP Chairman #Bilawal warns against presenting creation of new provinces as a cure-all for Pakistan’s deep-rooted political crises @AseefaBZ @NadeemAfzalChan pic.twitter.com/dr3sFfWQEh
— Media Talk (@mediatalk922) September 9, 2026
وفاقی حکومت سے تعاون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت سے علیحدگی اختیار نہیں کررہی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل طور پر رابطے میں ہے۔
بلاول بھٹو نے تحریک انصاف کی جانب سے پارلیمانی اداروں، کمیٹیوں اور انتخابات کے بائیکاٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ حکمت عملی نہ صرف تحریک انصاف اور اپوزیشن بلکہ پارلیمنٹ کے ادارے کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ابتدا ہی سے انتخابی عمل پر تحفظات تھے اور اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
مزید پڑھیں:
اپنے حالیہ دورہ آسٹریا سے متعلق قیاس آرائیوں پر بلاول بھٹو نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر قیاس آرائیاں خود پیدا کرکے پھر انہی کے بارے میں سوال کیا جائے تو یہ کافی دلچسپ ہے۔ آسٹریا کے دورے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ دورہ بہت اچھا رہا۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ دورہ سندھ کے دوران سڑکیں کھودنے اور راستے بند کرنے کے دعوے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ انہیں ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ سیاسی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی صاحبزادی کی گریجویشن پر بھی انہیں مبارکباد دی۔














