اسرائیل نے برطانوی قونصل خانے کو مشرقی یروشلم میں بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ قونصل خانے میں تعینات برطانوی سفارت کاروں کی اسناد بھی 30 روز کے اندر ختم کردی جائیں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی قیادت میں غزہ رابطہ مشن کے لیے اسرائیل میں تعینات برطانوی نمائندوں، جبکہ رام اللہ میں موجود برطانوی سفارت کاروں کو بھی 7 روز کے اندر اسرائیل چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ فلسطینیوں کی حمایت میں سامنے آگیا، اسرائیلی آبادکاری کے خلاف پابندیوں کا اعلان
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے منگل کے روز کہا تھا کہ برطانیہ کو مشرقی یروشلم میں اپنا قونصل خانہ بند کرنا ہوگا، کیونکہ یہ قونصل خانہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے منظور شدہ ہے۔
Israel has told the British consulate in East Jerusalem that it must close and that diplomats assigned there will lose their accreditation within 30 days, an Israeli official and two sources familiar with the matter said https://t.co/B1tth6v1xq
— Reuters (@Reuters) September 9, 2026
انہوں نے یہ اقدام برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف عائد پابندیوں کے ردعمل میں قرار دیا۔
برطانیہ کے ساتھ فرانس اور کینیڈا نے بھی مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے درآمد کی جانے والی اشیا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ نے لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کردی
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکومت کو ان پابندیوں کی توقع تھی اور وہ بدھ کو ان ممالک کے خلاف ممکنہ جوابی اقدامات پر غور کرے گی جنہوں نے برطانیہ کے اقدام کی حمایت کی ہے۔
فرانس اور سوئیڈن نے بھی برطانیہ کے اقدام کی حمایت کی ہے اور دونوں ممالک کے یروشلم میں ایسے قونصل خانے موجود ہیں جو فلسطینی اتھارٹی کے لیے منظور شدہ ہیں۔
No one stopped it just talk no action same as Gaza and Lebanon.
Israel has announced that it’s shutting down the UK Consulate in occupied East Jerusalem after the UK, France, and Canada announced a ban on goods from illegal settlements in the occupied West…
— MagicalM (@MagicalM999) September 9, 2026
اسرائیل ماضی میں بھی رام اللہ، جو فلسطینی اتھارٹی کا انتظامی مرکز ہے، میں بعض سفارتی دفاتر کو بند کرنے پر مجبور کرچکا ہے۔ کینیڈا کا بھی رام اللہ میں ایک دفتر موجود ہے۔
اس معاملے پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
مزید پڑھیں: برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک نے اسرائیلی وزرا پر پابندیاں عائد کردیں
برطانوی حکومت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارتی پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر اسرائیل کا شدید ردعمل اس بات کا واضح اظہار ہے کہ موجودہ صورتحال کس قدر اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
اسرائیل کے غصے کا زیادہ تر رخ برطانیہ کی جانب رہا، تاہم 12 ممالک کا مشترکہ طور پر اس اقدام کی جانب بڑھنا اسرائیلی حکومت کے لیے تشویش اور غم و غصے میں مزید اضافے کا باعث بنا ہے۔

اس کے علاوہ انٹرنیشنل غزہ سپورٹ سینٹر سے برطانوی نمائندوں کو ہٹانے کا فیصلہ بھی خاصا سخت ردعمل ہے۔
یہ ادارہ گزشتہ سال غزہ میں استحکام اور امدادی سرگرمیوں کے لیے رابطہ کاری کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا کینیڈا، فرانس، برطانیہ سمیت 13 ممالک کے 2 ریاستی حل کی حمایت کا خیرمقدم
تجزیے کے مطابق اسرائیل کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی ایک نئے اور غیر معمولی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے.
جبکہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں کے خلاف متعدد ممالک کا مشترکہ موقف اس معاملے کو مزید اہم بنا رہا ہے۔














