برطانوی پابندیوں پر اسرائیل کا ردعمل، مشرقی یروشلم میں قونصل خانہ بند کرنے کا حکم

بدھ 9 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل نے برطانوی قونصل خانے کو مشرقی یروشلم میں بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ قونصل خانے میں تعینات برطانوی سفارت کاروں کی اسناد بھی 30 روز کے اندر ختم کردی جائیں گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی قیادت میں غزہ رابطہ مشن کے لیے اسرائیل میں تعینات برطانوی نمائندوں، جبکہ رام اللہ میں موجود برطانوی سفارت کاروں کو بھی 7 روز کے اندر اسرائیل چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ فلسطینیوں کی حمایت میں سامنے آگیا، اسرائیلی آبادکاری کے خلاف پابندیوں کا اعلان

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے منگل کے روز کہا تھا کہ برطانیہ کو مشرقی یروشلم میں اپنا قونصل خانہ بند کرنا ہوگا، کیونکہ یہ قونصل خانہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے منظور شدہ ہے۔

انہوں نے یہ اقدام برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف عائد پابندیوں کے ردعمل میں قرار دیا۔

برطانیہ کے ساتھ فرانس اور کینیڈا نے بھی مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے درآمد کی جانے والی اشیا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ نے لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کردی

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکومت کو ان پابندیوں کی توقع تھی اور وہ بدھ کو ان ممالک کے خلاف ممکنہ جوابی اقدامات پر غور کرے گی جنہوں نے برطانیہ کے اقدام کی حمایت کی ہے۔

فرانس اور سوئیڈن نے بھی برطانیہ کے اقدام کی حمایت کی ہے اور دونوں ممالک کے یروشلم میں ایسے قونصل خانے موجود ہیں جو فلسطینی اتھارٹی کے لیے منظور شدہ ہیں۔

اسرائیل ماضی میں بھی رام اللہ، جو فلسطینی اتھارٹی کا انتظامی مرکز ہے، میں بعض سفارتی دفاتر کو بند کرنے پر مجبور کرچکا ہے۔ کینیڈا کا بھی رام اللہ میں ایک دفتر موجود ہے۔

اس معاملے پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک نے اسرائیلی وزرا پر پابندیاں عائد کردیں

برطانوی حکومت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارتی پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر اسرائیل کا شدید ردعمل اس بات کا واضح اظہار ہے کہ موجودہ صورتحال کس قدر اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

اسرائیل کے غصے کا زیادہ تر رخ برطانیہ کی جانب رہا، تاہم 12 ممالک کا مشترکہ طور پر اس اقدام کی جانب بڑھنا اسرائیلی حکومت کے لیے تشویش اور غم و غصے میں مزید اضافے کا باعث بنا ہے۔

اس کے علاوہ انٹرنیشنل غزہ سپورٹ سینٹر سے برطانوی نمائندوں کو ہٹانے کا فیصلہ بھی خاصا سخت ردعمل ہے۔

یہ ادارہ گزشتہ سال غزہ میں استحکام اور امدادی سرگرمیوں کے لیے رابطہ کاری کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا کینیڈا، فرانس، برطانیہ سمیت 13 ممالک کے 2 ریاستی حل کی حمایت کا خیرمقدم

تجزیے کے مطابق اسرائیل کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی ایک نئے اور غیر معمولی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے.

جبکہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں کے خلاف متعدد ممالک کا مشترکہ موقف اس معاملے کو مزید اہم بنا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ میں نسل کشی کی رپورٹ سے لے کر نوبیل انعام تک، ناوی پلے کی جیت پر عالمی سیاست میں بھونچال

سیکیورٹی خدشات، راولپنڈی اور مری میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی موت پر وزیراعظم، وزیر داخلہ کے حکم پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی بازگشت، پولیس کی تیاری مکمل، اشتعال انگیزی کرنے والوں کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی ہدایت

چین میں جراسک دور کے سب سے بڑے ممالیہ نما جانور کی دریافت، 160 ملین سال پرانا فوسل توجہ کا مرکز

ویڈیو

پی ٹی آئی کا مارچ لانگ نہیں، گول مارچ ہے، صوابی سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے، ارکان اسمبلی کی رائے

پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیا، صوبہ پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا گیا، عطا اللہ تارڑ

نیشنل ٹیکنالوجی پارک کا نام ’دانش آئی ٹی پارک‘ رکھ دیا گیا، ملک بھر میں توسیع کا اعلان

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی