چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے تقریباً 90 سال سے حل طلب ایک پیچیدہ ریاضیاتی مسئلے، نیویئر-اسٹوکس مساوات کے وجود اور ہمواری سے متعلق مسئلے، کا اہم حصہ صرف 88 گھنٹوں میں حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ریاضی کے ماہرین نے اس دعوے پر سوالات اٹھائے ہیں اور اسے ابھی آزادانہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
اوپن اے آئی کے مطابق تقریباً 10 ہزار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے مل کر اس مسئلے پر کام کیا اور 88 گھنٹوں کے دوران تقریباً 30 لاکھ پیغامات کا تبادلہ کیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس عمل میں تقریباً 130 ارب آؤٹ پٹ ٹوکنز استعمال ہوئے۔
نیویئر-اسٹوکس مساوات سیال مادوں، جیسے پانی اور ہوا، کی حرکت اور بہاؤ کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ان مساوات کے بارے میں یہ بنیادی سوال کہ بعض حالات میں ان کے حل ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور ہموار رہتے ہیں یا نہیں، کئی دہائیوں سے ریاضی دانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
OPENAI CLAIMS ITS AI SOLVED ONE OF THE SEVEN MILLENNIUM PROBLEMS
This is the Navier-Stokes problem, which mathematicians have wrestled with for about 90 years. It asks whether the equations of fluid motion can suddenly break down and produce infinity
An internal OpenAI model,… https://t.co/L1JQ3a18tr pic.twitter.com/5QYKoX0eQ7
— Mikadzyki🌙 (@Mikadzyki_NFT) September 9, 2026
اوپن اے آئی کے مطابق اگست کے آخر میں ایک نئے اندرونی اے آئی ماڈل کی تربیت شروع کی گئی، جس کے بعد یکم ستمبر کو تقریباً 10 ہزار اے آئی ایجنٹس کو مشکل ریاضیاتی مسائل پر کام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ 5 ستمبر تک ایجنٹس نے نیویئر-اسٹوکس مسئلے کے وجود اور ہمواری سے متعلق ایک حل تیار کرلیا۔
کمپنی کے اندازے کے مطابق اس بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ کے عمل پر موجودہ ماڈلز کی قیمتوں کو سامنے رکھتے ہوئے تقریباً ایک کروڑ ڈالر خرچ ہوئے۔ اوپن اے آئی نے اس پیش رفت کو مصنوعی ذہانت کی ریاضیاتی صلاحیتوں میں اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
تاہم اس دعوے کو ابھی حتمی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ کلی میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ، جس نے نیویئر-اسٹوکس مسئلے کے حل پر 10 لاکھ ڈالر کا ملینیم پرائز مقرر کر رکھا ہے، نے بھی اوپن اے آئی کی پیش رفت کو باضابطہ طور پر حل کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تیار کردہ حل کی بنیاد پر اس انعام کا دعویٰ نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا
دوسری جانب نیویارک یونیورسٹی کے ریاضی کے پروفیسر ٹرسٹن بک ماسٹر اور اینتھروپک سے وابستہ ریاضی دان لیونٹ آلپوگے کی جانب سے بھی اوپن اے آئی کے دعوے پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔ بک ماسٹر کے مطابق دونوں ریاضی دان نیویئر-اسٹوکس مسئلے پر تحقیق کر رہے تھے اور اپنی تحقیق میں اوپن اے آئی کے کوڈیکس ٹول سے بھی مدد لے رہے تھے۔
بک ماسٹر کا کہنا ہے کہ 3 ستمبر کو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے کام سے متعلق معلومات اوپن اے آئی تک پہنچ چکی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کمپنی نے ان کی تحقیق سے متعلق معلومات ملنے کے بعد اسی مسئلے پر کام شروع کیا۔
اوپن اے آئی نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے دونوں ریاضی دانوں کا کام عوامی سطح پر سامنے آنے سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ کمپنی کے مطابق اس کے تیار کردہ ثبوت دونوں ریاضی دانوں کے کام سے نمایاں طور پر مختلف ہیں اور دونوں میں ثابت کیے گئے نتائج بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔
For decades, it stood as one of the holy grails of math. Now OpenAI says it has found a solution. https://t.co/0sSo4MgaTD
— The Wall Street Journal (@WSJ) September 8, 2026
اوپن اے آئی نے تاہم یہ امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا کہ اس کی مصنوعات استعمال کرنے سے حاصل ہونے والے شناخت ظاہر نہ کرنے والے ڈیٹا نے اس کے ماڈلز کی تربیت اور بہتری میں کسی حد تک کردار ادا کیا ہو۔
یوں اوپن اے آئی کا دعویٰ مصنوعی ذہانت کی جانب سے مشکل ترین ریاضیاتی مسائل حل کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے اہم پیش رفت ضرور قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مسئلے کے حتمی حل کے لیے ریاضی کے ماہرین کی آزادانہ جانچ اور باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے۔














