خواب تو سب نے دیکھا، مگر میدان میں اترنے والی صرف اقرا تھی

بدھ 9 ستمبر 2026
author image

سدرہ عارف

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کوئٹہ کی ایک یونیورسٹی کے کلاس روم میں تقریباً 28 طالبات ابلاغِ عامہ کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ سب کے اپنے اپنے خواب تھے، کسی نے صحافت کو مستقبل کا پیشہ بنانا تھا، کسی کی منزل کسی اور شعبے میں تھی اور کسی نے صرف تعلیم مکمل کرنے کے لیے یہ مضمون اختیار کیا تھا۔

مگر 2022 میں تعلیم مکمل ہونے کے بعد جب عملی صحافت کا میدان سامنے آیا تو کوئٹہ کی فیلڈ رپورٹنگ میں قدم رکھنے والی ان طالبات میں صرف اقرا رحیم رہ گئیں۔

اقرا کے لیے صحافت محض ایک تعلیمی ڈگری نہیں، بلکہ ایک خواب تھا۔ سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی سے ابلاغِ عامہ کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ صحافت کو اپنا پیشہ بنائیں گی۔ مگر عملی میدان میں قدم رکھتے ہی انہیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے کئی مرتبہ انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید انہوں نے غلط شعبے کا انتخاب کر لیا ہے۔

چار سال تک زیرِ تربیت صحافی

اقرا رحیم نے اپنی عملی صحافت کا آغاز روز نیوز سے کیا۔ ان کے مطابق وہ تقریباً چار سال تک اسی ادارے کے ساتھ کام کرتی رہیں، لیکن ان چار برسوں میں بھی انہیں مستقل ملازم کا درجہ نہیں دیا گیا اور وہ بطور زیرِ تربیت صحافی کام کرتی رہیں۔

ماہانہ آٹھ سے دس ہزار روپے کے معاوضے پر اقرا فیلڈ میں خبریں بناتی رہیں۔ کھیلوں کے مقابلوں، مہنگائی، خواتین اور سماجی مسائل سمیت مختلف موضوعات پر رپورٹنگ کی۔ بلوچستان میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے بعد متاثرہ خاندان کی مشکلات بھی ان کی رپورٹنگ کا حصہ بنیں۔

اقرا کے مطابق انہیں فیلڈ میں جانے اور خبریں بنانے کی ذمہ داریاں تو دی جاتی تھیں لیکن ادارے کے مرکزی دفتر سے ان کا براہِ راست رابطہ قائم نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق چار سال تک ان کا رابطہ زیادہ تر ادارے کے مقامی ذمہ دار تک محدود رہا اور انہیں وہ مواقع، رہنمائی اور پیشہ ورانہ شناخت نہیں مل سکی جس کی ایک نوجوان صحافی کو ضرورت ہوتی ہے۔

جب رہنمائی کے بجائے راستہ محدود ہو جائے

اقرا سمجھتی ہیں کہ بلوچستان جیسے معاشرے میں نوجوان خواتین جب صحافت کے شعبے میں قدم رکھتی ہیں تو وہ اپنے سینئرز سے صرف کام ہی نہیں بلکہ رہنمائی کی بھی توقع رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق ایک نوجوان صحافی اپنے سینئرز پر اعتماد کرتی ہے اور انہیں اپنے لیے رہنما سمجھتی ہے۔ اگر ابتدا ہی میں مناسب رہنمائی نہ ملے تو اس کا اعتماد متاثر ہوتا ہے اور وہ خود کو اس شعبے کے لیے ناموزوں سمجھنے لگتی ہے۔

اقرا کے مطابق بلوچستان میں کئی باصلاحیت نوجوان مناسب رہنمائی اور مواقع نہ ملنے کی وجہ سے خود کو پیچھے کر لیتے ہیں اور بالآخر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ شاید انہوں نے اپنے لیے غلط شعبہ منتخب کیا ہے۔

28 طالبات کی کلاس، مگر راستے الگ

اقرا کی کلاس میں تقریباً 28 طالبات تھیں۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد زیادہ تر نے اپنی زندگی کے لیے مختلف راستے اختیار کیے۔ کچھ فلم اور دستاویزی شعبے کی طرف گئیں اور کچھ دوسرے علاقوں یا ممالک چلی گئیں۔ مگر کوئٹہ میں فیلڈ رپورٹنگ کے شعبے میں مسلسل کام کرنے والی اقرا واحد طالبہ تھیں۔

ان کی کلاس فیلو شانو نے 2018 سے 2022 تک اسی یونیورسٹی سے میڈیا صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ شانو کے مطابق انہوں نے صحافت کو کبھی اپنا مستقل پیشہ بنانے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ کوئٹہ میں ملازمتوں کے محدود مواقع اور کم تنخواہیں بھی اس شعبے سے دور رہنے کی وجوہات میں شامل تھیں۔

شانو کا کہنا ہے کہ صحافت کی تعلیم کے دوران سیکھی گئی ویڈیو تدوین، فلم بندی، پیکج بنانے اور آواز ریکارڈ کرنے کی مہارتیں اب وہ اپنے کاروبار میں استعمال کر رہی ہیں۔

شانو کی کہانی یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والی ہر طالبہ لازماً عملی صحافت کو اپنا پیشہ نہیں بنانا چاہتی، لیکن جن طالبات کی دلچسپی ہو ان کے لیے مواقع کا محدود ہونا ایک الگ مسئلہ ہے۔

تعلیم مکمل، مگر عملی میدان سے دوری

یونیورسٹی سے وابستہ اساتذہ کے مطابق ہر سال تقریباً 50 یا اس سے زائد طالبات ابلاغِ عامہ کی تعلیم مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوتی ہیں۔ طالبات کو دورانِ تعلیم صحافت اور متعلقہ عملی مہارتیں بھی سکھائی جاتی ہیں۔

تاہم بہت سی طالبات تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی صحافت میں آنا ہی نہیں چاہتیں۔ جو ایک آدھ طالبہ فیلڈ میں آتی بھی ہے وہ عملی حالات اور مشکلات دیکھنے کے بعد پیچھے ہٹ جاتی ہے۔

یونیورسٹی کے مطابق طالبات داخلہ لیتی ہیں، تعلیم مکمل کرتی ہیں اور تربیت بھی حاصل کرتی ہیں، لیکن جب انہیں عملی میدان میں ملازمت کے محدود مواقع اور مستقبل کے عدم تحفظ کا سامنا ہوتا ہے تو بہت سی طالبات صحافت سے دور ہو جاتی ہیں۔

سینئر خواتین صحافیوں کا تجربہ

کوئٹہ کی سینئر صحافی عطیہ اکرم پندرہ سے سولہ سال سے زائد عرصے سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور کوئٹہ میں مین اسٹریم میڈیا کی پہلی خاتون رپورٹر بھی رہ چکی ہیں۔ سینئر صحافی سعدیہ جہانگیری بھی دس سے بارہ سال سے زائد عرصے سے صحافت کے میدان سے وابستہ ہیں۔

عطیہ اکرم اور سعدیہ جہانگیری کے مطابق نئی آنے والی خواتین صحافیوں کو تربیت دینے کے باوجود عملی میدان میں بہت کم خواتین برقرار رہ پاتی ہیں۔

ان کے مطابق موجودہ خواتین صحافیوں کو اپنی ملازمتوں کے مستقبل کا خوف ہے اور یہی صورتحال نئی آنے والی لڑکیوں اور ان کے والدین کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتی ہے۔ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ اگر لڑکی کئی سال اس شعبے کو دے بھی دے تو اس کا مستقبل محفوظ ہوگا یا نہیں۔

ان کے مطابق نئی آنے والی بہت سی لڑکیوں کا تصور یہ ہوتا ہے کہ وہ لاہور، کراچی یا اسلام آباد میں نیوز اینکر بنیں گی، لیکن کوئٹہ میں صحافت کا بڑا عملی میدان فیلڈ رپورٹنگ ہے۔ جب انہیں فیلڈ میں اتارا جاتا ہے یا انٹرن شپ کے دوران عملی رپورٹنگ کا سامنا ہوتا ہے تو بعض لڑکیاں گھبرا کر پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔

صرف خواتین نہیں، مجموعی میڈیا بحران

سینئر صحافی فریداللہ جو 20 سال سے زائد عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور بیورو چیف کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں، کوئٹہ میں صحافیوں کے لیے محدود روزگار کے مواقع کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔

ان کے مطابق میڈیا اداروں میں پہلے سے کام کرنے والے صحافی بھی ملازمتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں نئی آنے والی خواتین کے لیے مناسب تنخواہ اور مستقل روزگار حاصل کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

فریداللہ کے مطابق کچھ خواتین اب اپنے یوٹیوب اور فیس بک صفحات کے ذریعے کام کر رہی ہیں جبکہ کچھ بہتر مواقع کی تلاش میں دوسرے شہروں کا رخ کر لیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع اور محفوظ ماحول پیدا کیا جائے تو زیادہ لڑکیاں صحافت کے میدان میں آ سکتی ہیں۔

حکومت کا مؤقف

سیکرٹری اطلاعات و نشریات حکومت بلوچستان عمران کے مطابق محکمہ اطلاعات کے پاس ان صحافیوں کا ریکارڈ موجود ہے جنہیں ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق خواتین صحافیوں کا ڈیٹا بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صحافت چھوڑنے والی خواتین کا درست ڈیٹا دستیاب ہونا مشکل ہے، تاہم اگر کوئی خاتون محکمہ اطلاعات کے ساتھ رجسٹرڈ رہی ہو اور بعد میں اس کے شعبہ چھوڑنے کا علم ہو تو اس حوالے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

حکومت بلوچستان کے پاس صحافیوں کی فلاح کے لیے جرنلسٹ ویلفیئر فنڈ بھی موجود ہے۔ یہ سہولت صرف خواتین کے لیے مخصوص نہیں، بلکہ تمام صحافیوں کے لیے ہے۔

ان کے مطابق بلوچستان میں صحافت مجموعی طور پر مشکل شعبہ ہے اور خواتین صحافیوں کے لیے سیکیورٹی اور دور دراز علاقوں تک رسائی کے مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم ان کے بقول اب خواتین صحافی پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں میدان میں آ رہی ہیں اور معاشرے میں خواتین کی صحافت کے حوالے سے قبولیت بھی بتدریج بڑھ رہی ہے۔

حکومت کے مطابق محکمہ اطلاعات میں انفارمیشن آفیسر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت بعض آسامیوں پر خواتین کے لیے مخصوص کوٹہ بھی موجود ہے۔

نجی میڈیا اداروں کے حوالے سے عمران کا کہنا ہے کہ محکمہ اطلاعات کے پاس ایسا کوئی مخصوص طریقۂ کار نہیں جس کے ذریعے نجی میڈیا اداروں کو اپنے ملازمین کو مخصوص معاوضہ یا تحفظ فراہم کرنے کا پابند بنایا جا سکے۔ تاہم صحافیوں کو شکایت کی صورت میں جرنلسٹ ٹریبونل سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔

صحافت چھوڑنے کے بجائے راستہ بدل لیا

چار سال تک روایتی ذرائع ابلاغ میں کام کرنے کے بعد اقرا رحیم نے صحافت کو مکمل طور پر چھوڑنے کے بجائے اپنے لیے ایک نیا راستہ تلاش کیا۔ اب وہ آزاد حیثیت سے اپنا مواد تیار کرتی ہیں اور اسے سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتی ہیں۔

اقرا کے لیے یہ تبدیلی صرف ذریعہ بدلنے کا نام نہیں بلکہ اپنے کام کو اپنے انداز میں جاری رکھنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان صحافیوں کو ابتدا ہی سے مناسب رہنمائی، عزت، بہتر معاوضہ اور آگے بڑھنے کے مواقع دیے جائیں تو بہت سی نوجوان خواتین صحافت کو اپنا مستقل پیشہ بنا سکتی ہیں۔

اقرا رحیم کی کہانی صرف ایک خاتون صحافی کی کہانی نہیں۔ یہ ان 28 طالبات اور مستقبل میں آنے والی سینکڑوں طالبات کے خوابوں سے جڑا سوال ہے، جنہوں نے ایک ہی جماعت میں صحافت کی تعلیم حاصل کی مگر عملی میدان میں قدم رکھنے کے بعد ان کے راستے الگ ہو گئے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp