بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع سہارنپور میں رات کی تاریکی اور بھاری سیکیورٹی میں 115 سال قدیم تاریخی مسجد کو بلڈوزروں کی مدد سے شہید کر دیا گیا ہے۔
اس غیر قانونی اور عجلت پسندانہ کارروائی میں مودی حکومت کو ملوث قرار دے دیا گیا، مودی سرکار کو اپوزیشن، سماجی کارکنوں اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
اترپردیش کی بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے سہارنپور کلکٹریٹ کیمپس میں واقع ایک تاریخی مسجد کو بھاری مشینری کے ذریعے شہید کر دیا۔
یہ کارروائی انتہائی سخت سیکیورٹی میں کی گئی، جس کے لیے مسلح کانسٹیبلری اور انسدادِ فسادات فورس کی 5 کمپنیاں تعینات کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت: تاریخی مہا کمبھ میلہ میں 60 کروڑ لوگوں کی شرکت
اس دوران اہم اپوزیشن رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا تاکہ وہ جائے وقوعہ پر نہ پہنچ سکیں اور نہ ہی کوئی عوامی سطح پر احتجاج ریکارڈ کروا سکیں۔
یہ عجلت پسندانہ کارروائی ایک مقامی ضلعی عدالت کی جانب سے اپیل مسترد کیے جانے کے محض 3 دن بعد عمل میں لائی گئی، جس سے مسجد کمیٹی کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مناسب وقت ہی نہیں مل سکا۔
2027 کے انتخابات اور فرقہ وارانہ سازش کا الزام
مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس انہدام کو 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اترپردیش کو فرقہ وارانہ کشیدگی میں دھکیلنے کی ایک دانستہ اور سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا بھارت میں مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی کی آئینی ضمانتیں اب بھی باقی ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ ایک صدی سے زیادہ عرصے تک مسلسل عبادت کا تسلسل قانونی طور پر ’وقف بائی یوزر‘ کی تعریف پر پورا اترتا ہے اور دہائیوں کا یہ قبضہ قانون کے تحت تحفظ فراہم کرتا ہے۔
سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے اسے آئین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریونیو ریکارڈ کے مطابق یہ زمین یعقوب خان اور وحید خان کی تھی اور انتظامیہ نے وقف بورڈ کو فریق بنائے بغیر یہ من مانی کارروائی کی۔
مزید پڑھیں:بھارت میں تاریخی مسجد کو شہید کرنے پر پاکستان کا شدید ردعمل، عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ
کیرانہ سے سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے اپنی جبری نظر بندی کی مذمت کرتے ہوئے اس کارروائی کو قانون کا مذاق اور بلڈوزر کے ذریعے ’فوری انصاف‘ کی ریاستی کوشش قرار دیا۔
عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ اور ترنمول کانگریس کی مہوا موئترا نے بھی بی جے پی حکومت پر سیاسی مفادات کے لیے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
تاریخی حقائق اور عدالتی احکامات کی پامالی
جمعیت علمائے ہند کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ارشد مدنی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلڈوزر اب تعصب اور انتقامی سیاست کا ہتھیار بن چکے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مسجد کی یہ شہادت 1991 کے عبادت گاہوں کے ایکٹ اور تاریخی وقف مقامات کے تحفظ کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مولانا ارشد مدنی نے بتایا کہ مسجد کمیٹی کے پاس 1911 کی تعمیر کے تاریخی شواہد، 1957 کا میونسپل ریکارڈ، اور 1960 سے عمارت کے اندر چلنے والے سب پوسٹ آفس کی مرکزی حکومت کی لیز کا ثبوت موجود تھا، لیکن حکام نے ان سب کو یکسر نظر انداز کر دیا۔
یہ مسجد، جس کا وقف بورڈ میں رجسٹریشن نمبر 451 ہے، موجودہ کلکٹریٹ کی عمارت سے بھی بہت پہلے تعمیر کی گئی تھی۔
سماجی کارکنوں اور مبصرین نے اس کارروائی کو اقلیتی عبادت گاہوں کے خلاف دہرے معیار اور امتیازی سلوک کی واضح مثال قرار دیا ہے، جہاں ثابت شدہ تاریخی ریکارڈ کے باوجود انہیں دانستہ طور پر مسمار کیا جا رہا ہے۔














