نئے صوبوں پر مسلم لیگ ن کا موقف، پارٹی کب فیصلہ کرے گی؟

جمعرات 10 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نئے صوبوں کا معاملہ ملک بھر میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ بعض حلقے انتظامی یونٹس اور ترقی کے نام پر نئے یونٹس بنانے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ اتحادی جماعتوں اور دیگر صوبوں کی قیادت کو اس حوالے سے تحفظات ہیں۔ ایسے میں مسلم لیگ ن کی خاموشی اور غیر واضح مؤقف کو سیاسی طور پر احتیاط بھی سمجھا جا رہا ہے۔ پارٹی کے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ جب تک مرکزی مجلسِ عاملہ مشاورت مکمل نہ کر لے، اس موضوع پر کھل کر بات کرنا پارٹی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن آئندہ چند دنوں میں پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس بلانے جا رہی ہے۔ یہ اجلاس پارٹی صدر میاں نواز شریف طلب کر رہے ہیں، جس میں صوبوں سے متعلق امور پر مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے نئے صوبوں کی بحث، وفاقی وزرا کا مؤقف کیا ہے؟

ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اس سے قبل پارٹی کو واضح ہدایت دے رکھی تھی کہ صوبوں کے حوالے سے کوئی رہنما میڈیا پر بات نہ کرے۔ تاہم چند رہنماؤں کے حالیہ بیانات کے بعد پارٹی قیادت نے مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس میں سینئر رہنما صوبوں کی صورتحال سے قیادت کو آگاہ کریں گے اور پارٹی لائن پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس کا مقصد اندرونی مشاورت کو مضبوط بنانا اور میڈیا پر منتشر پیغام دینے سے بچنا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ صوبے، نئے انتظامی یونٹس اور بین الصوبائی معاملات حساس ہیں، اس لیے ان پر عوامی بیان بازی سے گریز کیا جائے۔ چند رہنماؤں کے بیانات سامنے آنے کے بعد قیادت نے محسوس کیا کہ معاملہ پارٹی فورم پر طے ہونا چاہیے، نہ کہ ٹی وی اسکرین پر۔

مسلم لیگ ن کا اب تک نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے واضح اور باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ پارٹی کی طرف سے نہ تو نئے صوبوں کی حمایت کا اعلان ہوا ہے اور نہ ہی مخالفت میں کوئی حتمی بیان جاری کیا گیا ہے۔ رہنماؤں کے انفرادی بیانات تو وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں، مگر پارٹی قیادت کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیے ملک میں نئے صوبے بنانے کا شور تو ہے لیکن عملی کام نہیں ہورہا، رانا ثنااللہ

اجلاس میں صوبائی قیادت کی رپورٹ، موجودہ سیاسی صورتحال، نئے صوبوں سے متعلق اندرونی آراء اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر بات ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکزی مجلسِ عاملہ ہی وہ فورم ہے جہاں پارٹی کے بڑے فیصلے مشاورت کے بعد کیے جاتے ہیں اور رہنماؤں کو ایک ہی مؤقف پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اگر اجلاس میں اتفاقِ رائے ہو گیا تو پارٹی پہلی بار نئے صوبوں کے معاملے پر واضح لائن سامنے لا سکتی ہے، بصورتِ دیگر موجودہ احتیاط برقرار رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آن لائن کھیلوں اور سوشل میڈیا پر بچوں کے لیے خطرناک جال، گروہ کیسے کام کرتے ہیں؟

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا