فواد چوہدری کی اہلیہ حبا فواد کے خود کو بلوچستان کے کاکڑ قبائل سے تعلق رکھنے والی پاکستانی شہری قرار دینے کے بیان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے
حبا فواد نے اپنے بیان میں خود کو بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خاتون قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو کاکڑ قبیلے سے منسوب کرتی ہیں۔ ان کے اس دعوے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی شناخت اور بلوچستان سے تعلق کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی۔
مزید پڑھیں:فواد چوہدری کا نام کیوں نہیں لیا: حبا فواد کا عمران خان سے شکوہ
سابق ترجمان حکومت بلوچستان جان اچکزئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حبا فواد کے خاندان کے خلاف مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی پاکستانی شہری کی شناخت کو مسترد کرے یا یہ فیصلہ کرے کہ وہ خود کو کیا کہہ سکتا ہے۔
جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کو بارہا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، جن کے ذریعے صوبے میں دوسری برادریوں کو خارج کرنے اور انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ڈومیسائل کو کسی پاکستانی شہری کے آبائی ورثے، نسب اور شناخت چھیننے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سینئر رہنما ساجد ترین نے حبا فواد کے خاندان کے کوئٹہ کا مقامی ہونے کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے بلوچستان میں جعلی ڈومیسائل کی ایک بڑی مثال قرار دیا۔
بلوچستان میں پشتون قبائل کی تاریخی موجودگی
پشتون محققین کا ماننا ہے کہ تاریخی طور پر پشتون معاشرہ متعدد قبائل اور قبائلی شاخوں پر مشتمل رہا ہے۔ پشتونوں کے بڑے قبائلی سلسلوں میں دورانی، خلجی اور دیگر قبائلی گروہ شامل ہیں، جن کے اندر مزید درجنوں بڑے اور چھوٹے قبائل اور شاخیں موجود ہیں۔
شمالی بلوچستان میں کاکڑ ایک بڑا پشتون قبیلہ ہے، جبکہ اچکزئی، ترین، شیرانی، کاسی، خلجی سمیت متعدد دیگر قبائل بھی صوبے کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔
کوئٹہ میں بھی مختلف پشتون قبائل کی آبادی موجود ہے۔ یہاں کاکڑ، اچکزئی، ترین، خلجی اور دیگر قبائلی برادریاں طویل عرصے سے آباد ہیں۔
پشتون قبائل میں شناخت عام طور پر نسب، خاندان، آبائی شاخ اور قبائلی تعلق سے جڑی ہوتی ہے۔ کسی مخصوص قبیلے سے تعلق کا تعین محض کسی علاقے میں رہائش، پشتو بولنے یا ڈومیسائل رکھنے سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے خاندانی اور قبائلی نسبت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
کیا کوئی شخص کسی پشتون قبیلے میں شامل ہوسکتا ہے؟
پشتون معاشرے میں کسی فرد کا ثقافتی طور پر پشتون معاشرے کا حصہ بننا اور کسی مخصوص پشتون قبیلے کا نسبی رکن ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔ کوئی شخص پشتو زبان، ثقافت اور معاشرت اختیار کرکے پشتون معاشرے کے قریب ہوسکتا ہے، لیکن کسی مخصوص قبیلے مثلاً کاکڑ، اچکزئی یا ترین سے نسبی تعلق کا دعویٰ خاندانی شجرے اور قبائلی نسبت سے جڑا معاملہ ہے۔
مزید پڑھیں:فواد چوہدری الیکشن سے قبل نااہل ہوئے تو امیدوار کون ہو گا؟ حبا فواد نے بتا دیا
حبا فواد واقعی کاکڑ قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں یا نہیں، اس کی مکمل تفصیل اور اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں وضاحت خود حبا فواد ہی دے سکتی ہیں۔
تاہم اس معاملے نے بلوچستان میں ڈومیسائل، مقامی شناخت اور قبائلی نسبت کے حوالے سے ایک اہم بحث ضرور چھیڑ دی ہے کہ کسی شخص کی شناخت کا فیصلہ سیاسی تنازعات کے بجائے اس کے خاندانی پس منظر اور مستند شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔













