یمن کے وزیر دفاع طاہر العقیلی کے قافلے کو جنوبی یمن کے الضالع صوبے میں روک لیا گیا ہے جبکہ ان کے یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔
مزید پڑھیں:پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ارکان پارلیمنٹ پر کیا اثر پڑا؟
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سابق علیحدگی پسندوں کے حامیوں نے وزیر دفاع کے قافلے کی پیش قدمی روکی، تاہم طاہر العقیلی کو یرغمال بنائے جانے یا ان کے محافظ کو قیدی بنائے جانے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
❗️ Saudi-backed Yemeni Defense Minister Taher al-Aqili’s convoy reportedly BLOWN UP during visit to Dhale Governorate — South24
Unconfirmed reports say one of his bodyguards was taken prisoner and minister is currently besieged pic.twitter.com/Ks7uXp2y4v
— RT (@RT_com) September 9, 2026
مزید پڑھیں:افغان طلبہ کی پاکستان سے واپسی: ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مؤقف پر بین الاقوامی قانون کا حوالہ سامنے آگیا
یمن میں حکومت اور جنوبی دھڑوں کے درمیان کشیدگی کے دوران یہ واقعہ سامنے آیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ملک میں لڑائی میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے 2022 کی جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والا نسبتاً سکون ایک بار پھر متاثر ہوا ہے۔














