برکس کے فائدے کہاں ہیں؟ چدمبرم کے سوال نے مودی حکومت کو مشکل میں ڈال دیا

جمعرات 10 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی مودی حکومت ایک طرف برکس سربراہ اجلاس کی میزبانی کو اپنی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرنے میں مصروف ہے، تو دوسری جانب سابق وزیر خزانہ اور کانگریس رہنما پی چدمبرم نے حکومت کی سفارتکاری کی کارکردگی پر ہی سوال اٹھا دیے۔ برکس سے عملی فوائد نہ ملنے کے سوال پر بی جے پی نے جواب دینے کے بجائے کانگریس کے دور حکومت کو نشانے پر رکھ دیا۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق پی چدمبرم نے کہا کہ بھارت برکس، شنگھائی تعاون تنظیم، جی 20 اور کواڈ سمیت کئی اہم عالمی اتحادوں کا حصہ ہے، لیکن گزشتہ 3-2 برکس اجلاسوں سے بھارت کو کوئی نمایاں اور ٹھوس فائدہ نظر نہیں آیا۔

چدمبرم کا کہنا تھا کہ ماضی میں برکس اجلاسوں سے کچھ عملی نتائج سامنے آتے تھے، تاہم حالیہ برسوں میں ایسا دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے عالمی اتحادوں میں شامل ہونے کے باوجود بھارت کو آخر کیا فائدہ حاصل ہورہا ہے۔

کانگریس رہنما کے اس سوال کا براہ راست جواب دینے کے بجائے بی جے پی رہنما نلن کوہلی نے کانگریس کی سفارتکاری پر ہی سوال داغ دیا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا کانگریس سفارتکاری کو صرف ’دینا اور لینا‘ سمجھتی ہے اور ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ کانگریس بڑے عالمی ایونٹ پر سیاست کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:برکس میں پاکستان کی شمولیت اور برکس کی اپنی کرنسی آنے کی خبریں

یوں برکس سے حاصل ہونے والے ٹھوس فوائد کا سادہ سا سوال بی جے پی کے لیے الٹا مشکل سوال بن گیا، کیونکہ حکومت کی جانب سے گزشتہ اجلاسوں کے ایسے نمایاں عملی نتائج گنوانے کے بجائے حزب اختلاف کے ماضی کو موضوع بنا دیا گیا۔

بھارت 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ بھارت نے رواں سال یکم جنوری کو برکس کی صدارت سنبھالی تھی، جبکہ تنظیم میں 11 بڑی ابھرتی ہوئی معیشتیں شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp