حکومت نے پنشن کی ادائیگی کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے 3 لاکھ سے زائد سول اور فوجی پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق اور پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی توثیق کی ذمہ داری کمرشل بینکوں سے واپس لے کر نادرا کو سونپ دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں پنشن کی ادائیگی سے متعلق نئے ایس او پیز جاری کردیئے گئے ہیں، جن کے تحت کمرشل بینک اب پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق یا پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی توثیق میں کوئی انتظامی یا قانونی کردار ادا نہیں کریں گے۔
مزید پڑھیں:حکومت کا پنشن نظام ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہ، اب پنشنرز کو رقم وصول کرنے سے پہلے کیا کرنا ہوگا؟
نئے نظام کے تحت نادرا کو پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق کا ذمہ دار مقرر کیا گیا ہے۔ نادرا کو کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (سی جی اے) اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (ایم اے جی) کے نظام سے محفوظ اے پی آئی کے ذریعے منسلک کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ڈیجیٹل لائف سگنل براہ راست نادرا سے سی جی اے یا ایم اے جی کو منتقل ہوگا اور کمرشل بینکوں کا چینل ختم ہوجائے گا۔
حکومت کے مطابق بینک اب صرف پنشن ڈسبرسنگ ایجنسیوں کے طور پر کام کریں گے۔ معمول کے حالات میں انہیں پنشنرز کے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ یا بائیومیٹرک ڈیٹا کی تصدیق، وصولی، محفوظ رکھنے یا توثیق کا کوئی کردار حاصل نہیں ہوگا۔ تاہم نادرا کے نامزد نظام کے ذریعے انہیں پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے اجرا کے لیے مجاز آپریشنل ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا۔
وفاقی پنشنرز کے لیے لائف ویری فکیشن کا نیا ڈیجیٹل نظام!
نادرا اب وفاقی پنشنرز کی Proof of Life تصدیق براہِ راست متعلقہ اکاؤنٹس دفاتر تک پہنچائے گا۔ ہر 180 دن بعد تصدیق ضروری ہوگی، جبکہ Pak-ID سمیت مختلف سہولیات سے ویری فکیشن ممکن ہوگی۔ لائف سگنل نہ ملنے پر اکاؤنٹ Suspense Status… pic.twitter.com/mwLePyVbH2
— PTV News (@PTVNewsOfficial) September 9, 2026
نئے ایس او پیز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پنشن کی ادائیگی یا پراسیسنگ کے لیے کسی پنشنر کا پنشن ڈسبرسنگ اکاؤنٹ بینک کی جانب سے ڈورمنٹ نہیں کیا جائے گا۔ ایسے اکاؤنٹس پر بینک کے عمومی ڈورمنسی قواعد لاگو نہیں ہوں گے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 18 لاکھ 48 ہزار 151 سول پنشنرز ہیں، جن میں وفاقی حکومت کے 3 لاکھ 99 ہزار 58، خیبرپختونخوا کے 2 لاکھ 25 ہزار 112، سندھ کے 3 لاکھ 20 ہزار 754، بلوچستان کے ایک لاکھ 528، آزاد کشمیر کے 51 ہزار 641، گلگت بلتستان کے 16 ہزار 5، پنجاب کے 6 لاکھ 10 ہزار 823 اور پاکستان ریلوے کے ایک لاکھ 24 ہزار 230 پنشنرز شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:نادرا قوانین میں انقلابی تبدیلی، بینکوں اور اداروں میں بائیومیٹرک مسائل کا حل تلاش کرلیا گیا
ملک میں فوجی پنشنرز کی تعداد 13 لاکھ 26 ہزار 500 ہے، یوں سول اور فوجی پنشنرز کی مجموعی تعداد 30 لاکھ سے زائد بنتی ہے۔
نئے ایس او پیز کے تحت پنشن کی ادائیگی سے متعلق سابقہ تمام طریقہ کار منسوخ کردیئے گئے ہیں، جبکہ وفاقی پنشن کے لیے پہلے سے رائج فزیکل’ ڈسبرسرز ہاف‘ کا طریقہ بھی ختم کردیا گیا ہے۔ وفاقی پنشن اب خصوصی طور پر ڈائریکٹ کریڈٹ سسٹم کے ذریعے ادا کی جائے گی۔














