بھارتی ریاست اتر پردیش میں بی جے پی حکومت کی پولیس نے سہارنپور کلکٹریٹ کے اندر واقع مسجد کے انہدام کے خلاف احتجاج کرنے اور وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ پر تنقید کرنے پر 34 سالہ مسلم صحافی و سماجی کارکن ہدیٰ زری والا کو گرفتار کر لیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، ہدیٰ زری والا مسجد کے انہدام کے خلاف احتجاج کے لیے سہارنپور سرکٹ ہاؤس پہنچی تھیں۔ سرکٹ ہاؤس میں داخلے کے دوران پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کی تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ہدیٰ زری والا کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ سہارنپور انتظامیہ اور وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ سے مسجد کے انہدام پر سخت سوالات کرتی نظر آ رہی ہیں۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ مسجد کو مسمار کرنا سراسر غلط اقدام ہے اور مسلم برادری اس زیادتی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے گی۔
اس ویڈیو کے سامنے آنے پر سہارنپور کے صدر بازار تھانے میں 7 ستمبر کو ان کے خلاف ایک الگ ایف آئی آر درج کی گئی۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مسجد کی مسماری کے حوالے سے اشتعال انگیز اور قابلِ اعتراض گفتگو کی ہے۔
شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ ہدیٰ زری والا نے ایک آئینی عہدے پر فائز شخصیت کی شان میں گستاخی کی ہے اور ان کے بیانات سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔ شکایت کنندہ نے ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی استدعا کی تھی۔
ایف آئی آر کے بعد ہدیٰ زری والا کو حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف ‘بھارتیہ نیاے سنہیتا’ (بی این ایس) کی دفعہ 299 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے، جو کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے مذہبی جذبات کو عمداً اور بدنیتی کے ساتھ مجروح کرنے سے متعلق ہے۔
صدر تھانے کے ایک اعلیٰ پولیس اہلکار نے صحافی کی گرفتاری اور انہیں جیل بھیجے جانے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا، ’مذکورہ خاتون وہاں اشتعال انگیز تقریر کر رہی تھیں اور ہنگامہ آرائی میں ملوث تھیں، جس پر پولیس نے انہیں گرفتار کیا ہے۔‘
واضح رہے کہ ہدیٰ زری والا حال ہی میں اس وقت بھی خبروں کی زینت بنی تھیں جب انہوں نے دہلی پولیس کی جانب سے مسلم خاتون صحافیوں پر تشدد کے واقعے پر پولیس انتظامیہ سے سخت سوالات کیے تھے۔













