اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج کے خلاف درخواست، لارجر بینچ کی سماعت

جمعرات 10 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف اسلام آباد کے تاجر کی درخواست پر لارجر بینچ نے سماعت کی۔ چیف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف شامل ہیں۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی، موٹروے پولیس، خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان پولیس کے نمائندے جبکہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن بھی عدالت میں موجود تھے۔ درخواست گزار کے وکیل اختر چھینہ نے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج کیخلاف درخواست، اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اہم اور حساس معاملے کے باعث شارٹ نوٹس پر عدالت آنے پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مئی 2022 میں سپریم کورٹ کو واضح یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی۔ 2024 کے عدالتی احکامات اور نومبر 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح حکم کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔

منصور عثمان اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے دونوں تجربات نے بہت کچھ سکھایا، عدالت کو معاونت فراہم کروں گا کہ آیا موجودہ صورتحال میں ہائیکورٹ صوبوں کو ہدایات جاری کرسکتی ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کا 2022 کا فیصلہ اور پی ٹی آئی کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی بھی عدالت کے سامنے پڑھ کر سنائی۔

اٹارنی جنرل کے مطابق 2022 میں بانی پی ٹی آئی نے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کی کال دی تھی، جس کے دوران عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور بلیو ایریا میں گرین بیلٹ کو آگ لگائی گئی۔ نومبر 2024 میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی، جبکہ اس وقت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ وہ 2024 سے زیادہ تیاری کے ساتھ آرہے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نومبر 2024 کے واقعات میں 31 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت موجودہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے بطور جج بانی پی ٹی آئی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چلانے کے حق میں اقلیتی رائے دی تھی۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، البتہ وزیراعظم نے کابینہ کے آخری اجلاس میں بھی مذاکرات کی بات کی ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے بھی معلومات لی گئی ہیں اور تاحال سیاسی جماعت کی جانب سے کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ اس مرتبہ پہلے سے زیادہ تیاری کے ساتھ آنے کی بات کی جارہی ہے، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بھی شامل ہیں۔

اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق کسی کو بھی ہدایات جاری کرسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp