اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ یہ عدالت کسی کو اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرنے دے سکتی۔
مزید پڑھیں:’بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں سیاسی گفتگو ہوتی ہے، اس لیے اجازت نہیں دیں گے‘، اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ
چیف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں 3 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ دوسروں کے حقوق متاثر کرکے احتجاج کا حق استعمال نہیں کیا جاسکتا، جبکہ سرکاری وسائل اور افسران کو احتجاج کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت پبلک آفس ہولڈرز کے بیانات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، پارٹی کے ذمہ دار افراد کی جانب سے اسلام آباد کو محصور کرنے کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ اگر کوئی حکومت یا افسر ایکشن نہیں لے رہا تو عدالت ہدایات جاری کرسکتی ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ تمام صوبوں کے آئی جیز اور چیف سیکریٹریز کو امن و عامہ خراب نہ کرنے اور آئین کی پابندی کی ہدایت کی جائے۔ اٹارنی جنرل نے 2022 اور 2024 کے احتجاج کے دوران عدالتی احکامات کی خلاف ورزی، پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کیے جانے کا بھی حوالہ دیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ کیا نومبر 2024 کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم چیلنج کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق وہ حکم کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج کیخلاف درخواست، اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کو حملہ کیوں تصور کیا جا رہا ہے، یہ لانگ مارچ عدلیہ کے حق میں ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ اتنی کمزور نہیں کہ اسے کسی سیاسی جماعت کی حمایت کی ضرورت ہو۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو ماضی میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا ریکارڈ کل تک پیش کرنے کی ہدایت کردی، جبکہ تمام صوبوں کے آئی جیز، چیف سیکریٹریز اور دیگر متعلقہ افسران کو بھی دوبارہ طلب کرلیا۔














